🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃
سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38988 ترقیم الشثری: -- 40638
٤٠٦٣٨ - حدثنا احمد بن عبد الله قال: حدثنا زائدة عن (عمر) (١) بن قيس عن زيد بن وهب قال: اقبل طلحة والزبير حتى نزلا البصرة (وطرحوا) (٢) سهل ابن حنيف، فبلغ ذلك (عليا) (٣) ، وعلي كان بعثه عليها، فاقبل حتى نزل بذي قار. فارسل عبد الله بن عباس إلى الكوفة فابطئوا عليه، ثم اتاهم عمار (فخرجوا) (٤) ، قال زيد: فكنت فيمن خرج معه، قال: (فكف) (٥) عن طلحة والزبير واصحابهما، ودعاهم حتى (بدؤوه) (٦) فقاتلهم بعد صلاة الظهر، فما غربت الشمس وحول الجمل عين (تطرف) (٧) ممن كان يذب عنه، فقال علي: لا تتموا جريحا (ولا) (٨) تقتلوا مدبرا، ومن اغلق بابه والقى سلاحه فهو آمن؛ فلم يكن قتالهم إلا تلك العشية وحدها. فجاءوا (بالغد) (٩) يكلمون عليا في الغنيمة (فقرا) (١٠) علي هذه الآية، فقال: ⦗٥١٥⦘ اما إن الله يقول: ﴿ (واعلموا) (١١) (انما) (١٢) غنمتم من شيء فان لله خمسه وللرسول﴾ [الانفال: ٤١] : (ايكم) (١٣) لعائشة؟ فقالوا: سبحان الله! امنا، فقال: احرام هي؟ قالوا: نعم، قال علي: فإنه يحرم من بناتها ما يحرم منها قال: افليس عليهن ان يعتددن من (القتلى) (١٤) اربعة اشهر وعشرا، قالوا: بلى، قال: افليس لهن الربع والثمن من ازواجهن، قالوا: بلى، قال: ثم قال: ما بال اليتامى لا ياخذون اموالهم، ثم قال: يا قنبر من عرف شيئا فلياخذه، قال زيد: فرد ما كان في العسكر وغيره. قال: وقال علي لطلحة والزبير: (الم) (١٥) تبايعاني؟ فقالا: (نطلب) (١٦) دم عثمان؛ فقال علي: ليس عندي دم عثمان (١٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (عمرو).
(٢) في [س]: بياض.
(٣) في [ع]: (علي)، وفي [هـ]: (علينا).
(٤) في [ع]: (فرجعوا).
(٥) في [ع]: (وكف).
(٦) في [س، ع]: (بدوه).
(٧) في [هـ]: (تطوق).
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) في [ع]: (كالغد).
(١٠) في [هـ]: (فقول).
(١١) سقط من: [أ، ب].
(١٢) في [ع]: (وما).
(١٣) في [أ، ب]: (إنكم)، وفي [جـ]: (ألكم).
(١٤) في [ع]: (القتلا).
(١٥) في [ع]: (أو لم).
(١٦) في [ب]: (الطلب).
(١٧) صحيح؛ أخرجه الطحاوي ٣/ ٢١٢.

زید بن وہب سے منقول ہے طلحہ اور زبیر بصرہ تشریف لائے اور سہل بن حنیف کے سامنے معاملہ پیش کیا یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا تھا پس حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ذی قار مقام میں قیام فرمایا پھر عبداللہ بن عباس کو کوفہ بھیجا کوفہ والوں نے پس وپیش سے کام لیا پھر عمار کوفہ والوں کے پاس آئے پھر کوفہ والے نکل پڑے زیدکہتے ہیں کہ میں بھی انہی لوگوں میں شامل تھا جو حضرت عمار ساتھ نکلے تھے پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے طلحہ و زبیر اور ان کے ساتھیوں سے ہاتھ روکے رکھا اور ان کو حق کی طرف بلاتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے خود ہی لڑائی کی ابتدا کی پس ان کے ساتھ نماز ظہر کے بعد قتا ل کیا سورج غروب نہیں ہوا تھا کہ اونٹ کے گرد اونٹ کا دفاع کرتے ہوئے بہت سے لوگ ہلاک ہوگئے پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم زخمی کو قتل نہ کرو اور نہ ہی واپس بھاگنے والے کو قتل کرو اور جو اپنا دروازہ بند کرے اور اپنا ہتھیار پھینک دے اس کو امن ہے پس قتال نہیں ہوا مگر صرف اسی شام کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی اگلی صبح کو آئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مال غنیمت سے مال غنیمت کا مطالبہ کرنے لگے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول یہ آیت تھی کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ { وَاعْلَمُوا أَنَمَّا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ وَلِلرَّسُولِ } تم میں سے کون ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے تو انہوں نے کہا سبحان اللہ وہ تو ہماری ماں ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا وہ حرام ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں! پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو ان سے (ام المومنین سے) حرام ہے وہ ان کی بیٹیوں سے بھی حرام ہے۔ پھر فرمایا کہ کیا ان کے مقتول شوہروں کی وجہ سے ان کی عدت چار ماہ دس دن نہیں؟ تو لوگوں نے جواب دیا کیوں نہیں۔ پھر فرمایا کیا ان بیواؤں کے لیے ربع اور ثمن نہیں ان کے شوہروں کے اموال سے؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں۔ تو پھر یتیموں کو کیوں حق نہیں کہ و ہ ان کے اموال نہ لیں۔ پھر فرمایا اے قنبر جو اپنی شئے پہچان لے وہ اپنی شئے اٹھا لے۔ پس جو لشکر کے پاس مدمقابل لوگوں کا سامان تھا لوٹا دیا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر سے فرمایا کہ تم نے بیعت نہیں کی تھی میرے ہاتھ پر؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عثمان کا خون میرے سر تو نہیں عمروبن قیس کہتے ہیں کہ مجھے ابو قیس جو حضر موت سے تعلق رکھتے تھے کہاجب قنبر نے ندا لگائی کہ اپنی چیزوں کو پہچان کرلے لو تو ایک شخص ہمارے پاس سے گزرا ہم دیگچی میں کچھ پکا رہے تھے۔ اس نے اس دیگچی کو اٹھا لیا ہم نے کہا اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ اس میں جو ہے پک جائے ابو قیس کہتے ہیں کہ اس نے دیگچی میں ٹانگ ماری اور اس کو پکڑ کر چلتا ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40638]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40638، ترقيم محمد عوامة 38988)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40638 in Urdu