🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. من كان يحث على إتيان الجمعة ولا يرخص في تركها
جو حضرات جمعہ کی حاضری کی بھر پور ترغیب دیتے ہیں اور اس میں رخصت کے قائل نہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 5445 ترقیم الشثری: -- 5514
٥٥١٤ - حدثنا حسين بن علي عن الحسن بن (الحر) (١) عن ميمون بن (ابي) (٢) (شبيب) (٣) قال: اردت الجمعة في زمن الحجاج فتهيات للذهاب ثم قلت: (اين) (٤) اذهب؟ اصلي خلف هذا قال: فقلت مرة اذهب ومرة لا اذهب قال: (فاجتمع) (٥) رايي على الذهاب قال: فناداني مناد من جانب البيت ﴿ياايها الذين آمنوا إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلى ذكر الله وذروا البيع﴾ [الجمعة: ٩] ، قال: وجلست مرة اكتب كتابا فعرض في شيء إن انا كتبته في كتابي زين كتابي، وكنت قد كذبت وإن انا تركه كان في كتابي بعض القبح، وكنت قد صدقت، فقلت مرة اكتبه وقلت مرة لا اكتبه قال: (فاجتمع) (٦) رايي على تركه فتركته قال: فناداني مناد من جانب البيت: ﴿يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة﴾ [إبراهيم: ٢٧] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، هـ]: (أبجر).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [أ، جـ]: (شيب).
(٤) في [د]: (إن)، وفي [هـ]: (ابن).
(٥) في [جـ]: (فأجمع).
(٦) في [جـ]: (فأجمع).

حدثنا حسين بن علي، عن الحسن بن الحر، عن ميمون بن ابي شبيب، قال: " اردت الجمعة في زمن الحجاج فتهيات للذهاب، ثم قلت: اين اذهب؟ اصلي خلف هذا، قال: فقلت: مرة اذهب ومرة لا اذهب، قال: فاجمع رايي على الذهاب، قال: فناداني مناد من جانب البيت" يا ايها الذين آمنوا إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلى ذكر الله وذروا البيع"، قال: وجلست مرة اكتب كتابا فعرض لي شيء إن انا كتبته في كتابي زين كتابي، وكنت قد كذبت، وإن انا تركته كان في كتابي بعض القبح وكنت قد صدقت، فقلت: مرة اكتبه وقلت: مرة لا اكتبه، قال: فاجمع رايي على تركه فتركته، قال: فناداني مناد من جانب البيت" يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة"
حضرت میمون بن ابی شبیب کہتے ہیں کہ حجاج بن یوسف کے زمانے میں میں نے جمعہ کے لئے جانے کا ارادہ کیا اور تیاری بھی کرلی۔ پھر میرے دل میں خیال آیا کہ اس کے پیچھے کیا نماز پڑھوں؟ پھر کبھی مجھے خیال آتا کہ چلا جاؤں اور کبھی خیال آتا کہ نہ جاؤں۔ چناچہ میری آخری رائے یہ ٹھہری کہ نماز کے لئے چلا جاتا ہوں۔ اتنے میں مجھے بیت اللہ کی جانب سے کسی پکارنے والے کی یہ آواز آئی: اے ایمان والو! جب تم جمعہ کے دن نماز کی پکار سنو تو اللہ کے ذکر کی طرف تیزی سے چل پڑو اور خریدوفروخت کو چھوڑ دو۔ اسی طرح ایک مرتبہ میں ایک خط لکھنے بیٹھا تو ایک بات ذہن میں آئی جو خلاف حقیقت تھی لیکن اس کے لکھنے سے میرا خط مزین ہوجاتا۔ چناچہ کبھی تو دل میں آتا کہ جھوٹ لکھ کر خط کو مزین کردوں اور کبھی دل میں آتا کہ اس کو چھوڑ دوں اور خط کو سچ پر مشتمل رکھوں۔ بہرحال میری رائے اس کو چھوڑ دینے پر ٹھہری۔ اس پر مجھے بیت اللہ کی جانب سے کسی پکارنے والے کی یہ پکار سنائی دی: اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا میں اور آخرت میں پختہ قول کے ذریعہ ثابت قدم رکھتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5514]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5514، ترقيم محمد عوامة 5445)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 5514 in Urdu