سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
8. بَابُ تَفْسِيرِ الْخَلِيطَيْنِ وَمَا جَاءَ فِي الزَّكَاةِ عَلَى الْخَلِيطَيْنِ
باب دو چیزوں کو ملانے کی وضاحت ‘ دوملی ہوئی چیزوں پر زکوۃ لازم ہونے کا حکم
ترقیم العلمیہ : 1926 ترقیم الرسالہ : -- 1949
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، قَالا: نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثنا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي لَيْلَى سِنَانٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُصَدِّقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَرَأْتُ فِي كِتَابِهِ:" لا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ" ، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ حَسْنَاءَ مُلَمْلَمَةٍ، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا، وَقَالَ: مَا عُذْرِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذْتُ هَذِهِ مِنْ مَالِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ؟ قَالَ يَحْيَى: ثُمَّ سَمِعْتُ شَرِيكًا بَعْدُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، فَذَكَرْتُهُ لِوَكِيعٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا سَمِعْنَاهُ مِنْهُ عَنْ عُثْمَانَ.
سیدنا سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے والا ایک شخص آیا، راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اس کی تحریر میں یہ بات پڑھی کہ: ”الگ، الگ مال کو اکٹھا نہ کیا جائے اور اکٹھے مال کو الگ، الگ نہ کیا جائے، زکوٰۃ (ادائیگی یا وصولی) سے بچنے کے لیے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر اس کے بعد اس کے پاس ایک شخص بڑی اونٹنی لے کر آیا، جو بہت خوبصورت اور صحت مند تھی، تو اس نے اونٹنی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ بولا: ”اگر میں نے ایک مسلمان کے مال میں سے اسے وصول کر لیا، تو پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کیا کروں گا۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں کچھ اختلاف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة/حدیث: 1949]
ترقیم العلمیہ: 1926
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2456، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2249، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1579، 1580، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1670، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1801، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7400، 7401، 7402، 7403، 7427، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1947، 1948، 1949، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19139، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10008، 34576، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 6473، 6474»
«وله شواهد من حديث أبي بكر الصديق، فأما حديث أبي بكر الصديق، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1450، 6955، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1567»
«وله شواهد من حديث أبي بكر الصديق، فأما حديث أبي بكر الصديق، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1450، 6955، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1567»
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 1949 in Urdu
سويد بن غفلة الجعفي ← اسم مبهم