سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب
باب بلاعنوان
ترقیم العلمیہ : 2832 ترقیم الرسالہ : -- 2868
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا هِلالُ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا الْمُعَافَى ، نَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اشْتَرَى مِنْ أَعْرَابِيٍّ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، حِمْلَ خَبَطٍ، فَلَمَّا وَجَبَ لَهُ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْتَرْ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ: إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ مِثْلَهُ بَيْعًا عَمَرَكَ اللَّهُ مِمَّنْ أَنْتَ؟، قَالَ: مِنْ قُرَيْشٍ" ،.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے کوئی چیز خریدی، میرا خیال ہے اس کا تعلق بنو عامر بن صعصعہ سے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پتوں کا ایک گٹھا خریدا، جب سودا طے ہو گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اختیار کر لو (یعنی تم چاہو، تو اسے ختم کر سکتے ہو)۔“ تو دیہاتی نے کہا: ”میں نے آج تک ایسی سودا نہیں دیکھا، اللہ تعالیٰ آپ کے سودے کو آباد رکھے! آپ کا کون سے قبیلہ سے تعلق ہے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش سے ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2868]
ترقیم العلمیہ: 2832
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2318، 2319، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1249، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2184، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10554، 10555، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2867، 2868، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 5290، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 3552، 6388، 9066»
«قال الدارقطني: كلهم ثقات، الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2868»
«قال الدارقطني: كلهم ثقات، الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2868»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 2868 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري