سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
5. باب وإن خفتم ألا تقسطوا فى اليتامى
باب وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى
ترقیم العلمیہ : 3613 ترقیم الرسالہ : -- 3670
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:" وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3، قَالَتْ: هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ هُوَ وَلِيُّهَا فَيَتَزَوَّجُهَا عَلَى مَالِهَا وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا، وَلا يَعْدِلُ فِي مَالِهَا، فَلْيَتَزَوَّجْ مَا طَابَ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثَلاثَ وَرُبَاعَ" .
ہشام بن عروہ اپنے والد (عروہ بن زبیر) کے حوالے سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جو اللہ کے اس فرمان کے بارے میں ہے: ”اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے، تو تم ان خواتین کے ساتھ شادی کر لو جو تمہیں پسند آتی ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی شخص کی زیر پرورش ہوتی تھی۔ وہ شخص اس لڑکی کا سرپرست ہوتا تھا، اور پھر اس کے مال کی وجہ سے اس کے ساتھ شادی کر لیتا تھا، لیکن وہ اسے اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتا تھا اور مال میں بھی اس کے ساتھ انصاف سے کام نہیں لیتا تھا۔ ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ دوسری کسی خاتون کے ساتھ شادی کرے، خواہ دو شادیاں کرے یا تین کرے یا چار کرے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3670]
ترقیم العلمیہ: 3613
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2494، 2763، 4573، 4574، 4600، 5064، 5092، 5098، 5128، 5131، 5140، 6965، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 3018، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4073، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3348، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5488، 11024، 11059، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2068، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3667، 3668، 3669، 3670، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17686»
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 3670 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق