سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
50. باب نسخ قوله: الماء من الماء
باب: صرف انزال کی وجہ سے غسل لازم ہونے کا حکم منسوخ ہے
ترقیم العلمیہ : 450 ترقیم الرسالہ : -- 457
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمَرْوَزِيُّ ، نا عَبْدَانُ ، نا أَبُو حَمْزَةَ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ عِمْرَانَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عُرْوَةَ عَنِ الَّذِي يُجَامِعُ وَلا يُنْزِلُ؟ فَقَالَ: قَوْلُ أَنْ يَأْخُذُوا بِالآخِرَةِ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ وَلا يَغْتَسِلُ وَذَلِكَ قَبْلَ فَتْحِ مَكَّةَ، ثُمَّ اغْتَسَلَ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالْغُسْلِ" .
زہری بیان کرتے ہیں: میں نے عروہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو صحبت کرتا ہے، لیکن اسے انزال نہیں ہوتا تو عروہ نے جواب دیا: ”لوگوں کی رائے یہ ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری حکم کو اختیار کرتے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ایسا ہی کیا کرتے تھے اور غسل نہیں کرتے تھے، لیکن یہ مکہ فتح ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ اس کے بعد آپ نے غسل کرنا شروع کیا اور لوگوں کو بھی (ایسی صورتحال میں) غسل کرنے کی ہدایت کی۔“ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 457]
ترقیم العلمیہ: 450
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 348، 349، 350، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 143، 144، 145، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 227، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1175،، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 108، 109، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 608، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 392، 393، 394،2293،457، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24843»
«قال البخاری: لا يتابع على حديثه ثم ذكر هذا الحديث يعني الحسين بن عمران، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 51)»
«قال البخاری: لا يتابع على حديثه ثم ذكر هذا الحديث يعني الحسين بن عمران، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 51)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 457 in Urdu
محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي