🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. بَابُ مَا رُوِيَ فِي لَمْسِ الْقُبُلِ وَالدُّبُرِ وَالذَّكَرِ وَالْحُكْمِ فِي ذَلِكَ
باب: (عورت کا اپنی) اگلی یا پچھلی شرمگاہ یا مرد کا اپنی شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے اور اس کا حکم
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 537 ترقیم الرسالہ : -- 545
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، نا رَجَاءُ بْنُ مَرْجَاءَ الْحَافِظُ ، قَالَ: اجْتَمَعْنَا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ أَنَا وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، فَتَنَاظَرُوا فِي مَسِّ الذَّكَرِ، فَقَالَ يَحْيَى يَتَوَضَّأُ مِنْهُ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: بِقَوْلِ الْكُوفِيِّينَ وَتَقَلَّدَ قَوْلَهُمْ، وَاحْتَجَّ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ بِحَدِيثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، وَاحْتَجَّ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِحَدِيثِ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، وَقَالَ لِيَحْيَى: كَيْفَ تَتَقَلَّدَ إِسْنَادَ بُسْرَةَ، وَمَرْوَانُ أَرْسَلَ شُرْطِيًّا حَتَّى رَدَّ جَوَابَهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ يَحْيَى: وَقَدْ أَكْثَرَ فِي النَّاسِ فِي قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ وَلا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: كِلا الأَمْرَيْنِ عَلَى مَا قُلْتُمَا، فَقَالَ يَحْيَى: مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ تَوَضَّأَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ" . فَقَالَ فَقَالَ عَلِيُّ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: " لا يَتَوَضَّأُ مِنْهُ وَإِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْ جَسَدِكَ" ، فَقَالَ يَحْيَى: عَنْ مَنْ؟ قَالَ: سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَإِذَا اجْتَمَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عُمَرَ وَاخْتَلَفَا فَابْنُ مَسْعُودٍ أَوْلَى أَنْ يُتَّبَعَ، فَقَالَ لَهُ أَحْمَدُ: نَعَمْ وَلَكِنْ أَبُو قَيْسٍ لا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ. فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ" مَا أُبَالِي مَسَسْتُهُ أَوْ أَنْفِي". فَقَالَ أَحْمَدُ: عَمَّارٌ وَابْنُ عُمَرَ اسْتَوَيَا فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا وَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا.
رجاء بن مرجی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم مسجد خیف میں اکٹھے ہوئے، جن میں احمد بن حنبل، علی بن مدینی اور یحییٰ بن معین تھے، ان لوگوں کے درمیان شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں بحث چھڑ گئی، تو یحییٰ نے کہا: ”اس کے بعد وضو کیا جائے گا۔“ علی بن مدینی نے اہل کوفہ کے قول کے مطابق رائے بیان کی اور ان کے قول کی تقلید کی۔ یحییٰ بن معین نے اپنے موقف کی تائید میں بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی روایت نقل کی، جبکہ علی بن مدینی نے اپنے موقف کی تائید میں قیس بن طلق کی روایت نقل کی۔ انہوں نے یحییٰ سے کہا: ”تم بسرہ کی سند کی کیسے پیروی کر سکتے ہو، جبکہ مروان (جو مدینہ کا گورنر تھا) نے ایک سپاہی کو بھیجا تھا، یہاں تک کہ وہ سپاہی اس خاتون کا جواب لے کر مروان کے پاس آیا تھا۔“ تو یحییٰ نے کہا: ”اکثر لوگوں نے قیس بن طلق پر تنقید کی ہے اور ان کی روایت کو مستند قرار نہیں دیا۔“ تو امام احمد بن حنبل نے کہا: ”آپ دونوں نے جو بات بیان کی، واقعہ ایسا ہے۔“ یحییٰ مہدی نے امام مالک کے حوالے سے نافع کے حوالے سے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں: ”اس کے بعد وضو کرنا ضروری نہیں ہے، یہ تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے۔“ تو یحییٰ نے دریافت کیا: ”یہ بات کس نے نقل کی ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”یہ سفیان نے ابوقیس کے حوالے سے ہزیل کے حوالے سے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ بات نقل کی ہے۔“ تو جب بھی کسی معاملے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی رائے مختلف ہو، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود اس بات کے زیادہ مستحق ہوں گے کہ ان کی پیروی کی جائے۔ تو امام احمد بن حنبل نے ان سے فرمایا کہ ”ایسا ہی ہے۔“ لیکن ابوقیس کی روایت کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ تو انہوں نے کہا: ”ابونعیم نے معمر کے حوالے سے، عمیر کے حوالے سے، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے۔“ وہ فرماتے ہیں: ”مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے، میں اسے (شرمگاہ کو) چھوؤں یا اپنی ناک کو چھوؤں۔“ تو امام احمد بن حنبل نے یہ کہا: ”سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دونوں ایک ہی مرتبہ کے ہیں، تو جو شخص چاہے وہ ان کی رائے کو اختیار کرے اور جو شخص چاہے وہ ان کی رائے کو اختیار کرے۔“ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 545]
ترقیم العلمیہ: 537
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 545»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمار بن ياسر العنسي، أبو اليقظانصحابي
👤←👥عمير بن سعيد النخعي، أبو يحيى
Newعمير بن سعيد النخعي ← عمار بن ياسر العنسي
ثقة
👤←👥هزيل بن شرحبيل الأودي
Newهزيل بن شرحبيل الأودي ← عمير بن سعيد النخعي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن ثروان الأودي، أبو قيس
Newعبد الرحمن بن ثروان الأودي ← هزيل بن شرحبيل الأودي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبد الرحمن بن ثروان الأودي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسعود ← سفيان الثوري
صحابي
👤←👥علي بن رباح اللخمي، أبو موسى، أبو عبد الله
Newعلي بن رباح اللخمي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← علي بن رباح اللخمي
صحابي
👤←👥رجاء بن مرجى الغفاري، أبو محمد، أبو أحمد
Newرجاء بن مرجى الغفاري ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن الحسن الموصلي، أبو بكر
Newمحمد بن الحسن الموصلي ← رجاء بن مرجى الغفاري
متهم بالكذب
Sunan al-Daraqutni Hadith 545 in Urdu