الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. فصل منه فى العشاريات المبدونة بعدد
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
حدیث نمبر: 10024
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ تَخَتُّمَ الذَّهَبِ وَجَرَّ الْإِزَارِ وَالصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ قَالَ جَرِيرٌ إِنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ نَتْفَهُ وَعَزْلَ الْمَاءِ عَنْ مَحَلِّهِ وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ وَفَسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ وَعَقْدَ التَّمَائِمِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحَلِّهَا وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دس چیزوں کو ناپسند کرتے تھے: (۱) سونے کی انگوٹھی، (۲) تہبند کو گھسیٹنا، (۳) صفرہ یعنی خلوق خوشبو، (۴) سفید بالوں کو تبدیل کر دینا،یعنی ان کو اکھاڑ دینا، (۵) مادۂ منویہ کو اس کے محل سے دور گرانا یعنی عزل کرنا، (۶) معوذات کے علاوہ دم کرنا، (۷) بچے میں فساد پیدا کرنا، لیکن اس کام کو حرام نہیں قرار دیا، (۸) تمیمے لٹکانا، (۹) بے محل موقع پر عورت کا زینت اختیار کرنا اور (۱۰) نرد کھیل کے مہرے مارنا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 10024]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الرحمن بن حرملة الكوفي، قال البخاري: لم يصح حديثه،يعني ان عبد الرحمن لم يسمع ابن مسعود، وقاسم بن حسان، قال ابن حجر: مقبول، يعني عند المتابعة والا فھو لين الحديث، أخرجه ابوداود: 4222، والنسائي: 7/ 141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4179»
وضاحت: فوائد: … بچے میں فساد پیدا کرنے سے مراد غیلہ ہے، یعنی خاوند کا اپنی بیوی سے اس وقت جماع کرنا، جب وہ اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہو۔
یہ روایت ضعیف ہے اور ان امور کی وضاحت ان سے متعلقہ ابواب میں ہو چکی ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے اور ان امور کی وضاحت ان سے متعلقہ ابواب میں ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10024 in Urdu