الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب ما جاء فى ذم المال
مال کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 10067
عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ امْرَأَةِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَذَاكَرَا الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَى اللَّهَ
۔ سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور پھر دونوں نے دنیا کا ذکر کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ دنیا سر سبزو شاداب، میٹھی (اور پر کشش) ہے، جو اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور کئی لوگ ایسے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مال میں گھس تو جاتے ہیں، لیکن جس دن وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے، اس دن ان کے لیے آگ ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10067]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27594»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10067 in Urdu