الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. فَضْلُ مِنْهُ فِي مثل الدُّنْيَا عِنْدَ اللهِ وَهَوَانِهَا عَلَيْهِ
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
حدیث نمبر: 10081
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَخْلَةٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَهَا أَهْلُهَا فَقَالَ ( (أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا) ) قَالُوا نَعَمْ قَالَ ( (لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک خارش زدہ بھیڑیا بکری کے بچے کے پاس سے گزرے، اس کے مالکوں نے اس کو گھر سے نکال دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ بچہ اپنے مالکوں کے ہاں حقیر ہو گا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جتنا یہ بچہ اپنے مالکوں کے ہاں حقیر ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10081]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الدارمي: 2737، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8445»
وضاحت: فوائد: … جب آدم علیہ السلام اور حواm نے ممنوعہ درخت کا پھل کھایا تو ان کی توبہ تو قبول ہو گئی، لیکن پھر بھی ان کو زمین پر اتار دیا گیا اور کہا گیا کہ کھوئے ہوئے ورثے کو پانے کی کوشش کریں، درحقیقت انسان جنت کو پانے کے لیے دنیا میں بھیجا گیا، نہ کہ دنیا کو سب کچھ سمجھ لینے کے لیے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10081 in Urdu