الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. فَضْلُ مِنْهُ فِي مثل الدُّنْيَا عِنْدَ اللهِ وَهَوَانِهَا عَلَيْهِ
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
حدیث نمبر: 10085
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ مَطْعَمَ ابْنِ آدَمَ جُعِلَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا وَإِنْ قَزَّحَهُ وَمَلَّحَهُ فَانْظُرُوا إِلَى مَا يَصِيرُ) )
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے کھانے کو دنیا کے لیے بطورمثال بیان کیا گیا ہے،، اگرچہ کھانا مسالے دار اور نمکین ہو، پس دیکھو کہ وہ (بالآخر) کیا ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10085]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن حبان: 702، والطبراني في الكبير: 531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21559»
وضاحت: فوائد: … مطلب یہ ہے کہ ابن آدم کو لالچی اور حریص او رزبان کے چسقوں کاغلام اور گرویدہ نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ ان چیزوں کا تعلق حلق سے اوپر تک ہے۔ حلق سے نیچے کھانے کا کسی قسم کا کوئی امتیاز نہیںکیا جاتا کہ وہ مزیدار تھا یا بے مزہ۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَامَلَأَ آدَمِیٌّ وِعَائً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ اُکُلَاتٌ یُقِمْنَ ُصْلَبٗہ،فَاِنْکَانَلَامَحَالَۃً، فَثُلُثٌ لِطَعَامِہِ، وَثُلُثٌ لِشَرَابِہٖ،وَثُلُثٌلِنَفَسِہِ۔)) (ترمذی) … کسی آدمی نے کوئی برتن اپنے پیٹ سے زیادہ برا نہیں بھرا۔ آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پشت کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پھر پیٹ کا تیسرا حصہ اپنے کھانے کے لیے، تیسرا حصہ پانی کے لیے اور تیسرا حصہ سانس لینے کے لیے ہو۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10085 in Urdu