الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمُ الْبُنْيَانِ
عمارتوں کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 10087
عَنْ قَيْسٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ نَعُودُهُ وَهُوَ يَبْنِي حَائِطًا لَهُ فَقَالَ ( (الْمُسْلِمُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ خَلَا مَا يَجْعَلُ فِي هَذَا التُّرَابِ) ) وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا فِي بَطْنِهِ وَقَالَ لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ) ) زَادَ فِي رِوَايَةٍ ( (ثُمَّ قَالَ إِنَّ أَصْحَابَنَا الَّذِينَ مَضَوْا لَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَا شَيْئًا وَإِنَّا أَصَبْنَا بَعْدَهُمْ مَا لَا نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا التُّرَابَ) )
۔ قیس کہتے ہیں: ہم سیدنا خباب بن ارت کی تیمار داری کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، جبکہ وہ ایک دیوار بنا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو ہر چیز میں اجر دیا جاتا ہے، ماسوائے اس سرمائے کے، جس کو اس مٹی پر خرچ کرتا ہے۔سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کو ان کے پیٹ پر سات مقامات پر داغا گیا تھا، انھوں نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور موت کی دعا کرتا، پھر انھوں نے کہا: ہمارے بعض ساتھی ایسے تھے کہ وہ دنیا سے چلے گئے، لیکن دنیا ان کے کسی اجر میں کمی نہ کر سکی، جبکہ ہم نے تو ان کے بعد اتنا مال و متاع حاصل کر لیاہے کہ ہم اس کے لیے مٹی کے علاوہ کوئی جگہ ہی نہیں پاتے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10087]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6430، ومسلم: 2681، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21059 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21374»
وضاحت: فوائد: … لیکن دنیا ان کے کسی اجر میں کمی نہ کر سکی اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ مشرف باسلام ہونے کے بعد دنیا کی کوئی نعمت پائے بغیر دنیا سے رخصت ہو گئے، اس طرح ان کو ان کا سارا اجر قیامت کے روز ملے گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6430
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10087 in Urdu