الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ ﷺ
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
حدیث نمبر: 10107
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ ذَهَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِي يَلْبَسُ ثِيَابَهُ لِيَلْحَقَنِي فَقَالَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ: لَيَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ لَعِينٌ، فَوَاللهِ مَا زِلْتُ وَجِلًا أَتَشَوَّفُ دَاخِلًا وَخَارِجًا حَتَّى دَخَلَ فُلَانٌ يَعْنِي الْحَكَمَ.
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میرے ابو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کپڑے پہننے کے لیے چلے گئے، تاکہ مجھے مل سکیں، ابھی تک ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ملعون شخص تم پر ضرور ضرور داخل ہونے والا ہے۔ پس اللہ کی قسم! میں خوفزدہ ہو کر آنے جانے والوں کو دیکھنے لگا، یہاں تک کہ حکم داخل ہوا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10107]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزار: 1625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20018»
وضاحت: فوائد: … یہ حکم بن ابی العاص تھا، یہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا چچا اور مروان کا باپ تھا، یہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوا اور پھر مدینہ منورہ میںسکونت اختیار کی،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو طائف کی طرف بھیج دیا، پھر یہ وہیں رہا، یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں اس کو مدینہ میں بلا لیا، پھر یہیں اس نے وفات پائی۔ ابن اثیر نے اسد الغابہ میں کہا: حکم بن ابی العاص پر لعنت کرنے اور اس کو جلاوطن کرنے سے متعلقہ کافی ساری احادیث ہیں، ان سب کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بہرحال یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی امرِ عظیم کی وجہ سے ایسے کیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بردبار اور چشم پوش تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10107 in Urdu