🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ أَوْ سَبَهُ أَوْ دَعَا عَلَيْهِ وَلَيْسَ هُوَ اهْلُ لِذَلِكَ كَانَ لَهُ زَكَاةٌ وَأَجْرٌ وَرَحْمَةٌ
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10116
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنَّ أَمْدَادَ الْعَرَبِ كَثَرُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى غَمُّوهُ وَقَامَ الْمُهَاجِرُونَ يُفَرِّجُونَ عَنْهُ حَتَّى قَامَ عَلَى عَتَبَةِ عَائِشَةَ فَرَهِقُوهُ فَأَسْلَمَ رِدَاءَهُ فِي أَيْدِيهِمْ وَوَثَبَ عَلَى الْعَتَبَةِ فَدَخَلَ وَقَالَ اللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْقَوْمُ فَقَالَ كَلَّا وَاللَّهِ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ لَقَدِ اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ شَرْطًا لَا خُلْفَ لَهُ فَقُلْتُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَضِيقُ كَمَا يَضِيقُ بِهِ الْبَشَرُ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ بَدَرَتْ إِلَيْهِ مِنِّي بَادِرَةٌ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عرب اعوان وانصاری اس کثرت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اتنا ہجوم ہوا کہ مہاجرین کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کشادگی پیدا کرنے لگے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دہلیز کے پاس کھڑے ہو گئے، پھر وہ اس قدر قریب ہو گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنی چادر پکڑا دی اور خود جلدی سے دہلیز پر چڑھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر داخل ہو گئے اور فرمایا: اے اللہ! ان پر لعنت کر۔ سیدہ نے کہا: لوگ تو ہلاک ہو گئے ہیں، (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کر دی ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! اے ابو بکر کی بیٹی! میں نے اپنے ربّ سے ایک شرط لگائی ہے، وہ اس کی مخالفت نہیں کرے گا، میں نے اپنے ربّ سے کہا: میں تو ایک بشر ہی ہوں اور بشر کی طرح ہی تنگ ہو جاتا ہوں، پس جس مؤمن کے حق میں میری طرف سے غصہ کی حالت میں کوئی بات نکل جائے تو اس کو اس کے حق میں کفارہ بنا دے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10116]
تخریج الحدیث: «قوله: انما انا بشر اضيق بما يضيق به البشر الي آخره صحيح، وھذا اسناد فيه ابن ابي الزناد مختلف فيه، وعبد الرحمن بن الحارث مختلف فيه، أخرجه ابويعلي: 4507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25273»

الحكم على الحديث:
قوله : انما انا بشر اضيق بما يضيق به البشر الي آخره صحيح


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10116 in Urdu