الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْي عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ وَتَقْبِيحِهِ وَالْوَسمِ فِيهِ
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 10142
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ يُدَخِّنُ مَنْخَرَاهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَنْ فَعَلَ هَذَا) ) زَادَ فِي رِوَايَةٍ ( (لَعَنَ اللَّهُ الَّذِي وَسَمَهُ) ) ( (لَا يَسِمَنَّ أَحَدٌ الْوَجْهَ وَلَا يَضْرِبَنَّ أَحَدٌ الْوَجْهَ) )
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک ایسا گدھا گزارا گیا، جس کے چہرے پر داغا گیا تھا اور اس کے نتھنوں سے دھواں نکل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس نے یہ کاروائی کی ہے، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے اس کو داغا ہے، کوئی آدمی نہ چہرے پر داغا کرے اور نہ چہرے پر مارا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10142]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14513»
وضاحت: فوائد: … چہرے کا حکم صرف انسانوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ جانوروں کے لیے بھییہی حکم ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2117
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10142 in Urdu