🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب فى خصال الإيمان وآياته
ایمان کی خصلتوں اور اس کی نشانیوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 102
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ قِلَّةُ الْكَلَامِ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ) تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ) )
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے کے حسنِ اسلام میں سے یہ ہے کہ جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اس کے بارے میں باتیں کم کرے۔ اور ایک روایت میں ہے: جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اسے چھوڑ دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 102]
تخریج الحدیث: «حسن بشواهده۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 2886، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1737»
وضاحت: فوائد: … یہ ایک جامع حدیث ہے اور نبیٔ کریم کے صاحب ِ جوامع الکلم ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: اہل علم نے اس حدیث کو بڑی شان و عظمت والا قرار دیا اور اس کو ان چار فرمودات ِ نبویہ میں شمار کیا، جن پر اسلام کے احکام سہارا لیتے ہیں، بعض نے اس حدیث کو اسلام کا تیسرا حصہ قرار دیا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۲۹)
یہ حدیث تمام اسلامی احکام کا ملجاو ماوی ہے، اس حدیث کا مسلمان کے ہر معاملے سے گہرا تعلق ہے، جب بھی کوئی اقدام کرنا چاہے یا بولنا چاہے تو اس کے نتائج اور فوائد پر غور کر لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں ندامت ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 102 in Urdu