الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب أول المخلوقات وفيه ذكر الماء والعرش واللوح والقلم
مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا
حدیث نمبر: 10212
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَ أُمَيَّةَ بْنَ أَبِي الصَّلْتِ فِي شَيْءٍ مِنْ شِعْرِهِ فَقَالَ رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ يَمِينِهِ وَالنَّسْرُ لِلْأُخْرَى وَلَيْثٌ مُرْصَدٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ وَقَالَ وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ كُلَّ آخِرِ لَيْلَةٍ حَمْرَاءَ يُصْبِحُ لَوْنُهَا يَتَوَرَّدُ تَأْبَى فَمَا تَطْلُعُ لَنَا فِي رِسْلِهَا إِلَّا مُعَذَّبَةً وَإِلَّا تُجْلَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیہ کے بعض اشعار کی تصدیق کی تھی، اس نے ایک شعر یہ کہا تھا: (حاملین عرش میں کوئی) مرد کی صورت پر ہے، کوئی بیل کی صورت پر ہے، اللہ تعالیٰ کی دائیں ٹانگ کے نیچے، تو کوئی گدھ کی صورت ہے اور کوئی گھات بیٹھے ہوئے شیر کی صورت پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امیہ نے سچ کہا ہے۔ ایک دفعہ اس نے یہ شعر کہا تھا: اور ہر رات کے آخر میں سورج طلوع ہوتا ہے، اس وقت وہ سرخ ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلابی نظر آ رہا ہوتا ہے، وہ انکار کردیتا ہے اور نرمی کے ساتھ طلوع نہیں ہوتا، وگرنہ اس کو عذاب دیا جاتا ہے اور کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10212]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2314»
وضاحت: فوائد: … حاملین عرش کے بارے میں درج ذیل روایت صحیح ہے:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اُذِنَ لِيْ اَنْ اُحَدِّثَ عَنْ مَلَکٍ مِنْ مَلَائِکَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی مِنْ حَمَلَۃِ الْعَرْشِ، مَابَیْنَ شَحْمَۃِ اُذُنِہٖاِلٰی عَاتِقِہٖمَسِیْرَۃُ سَبْعِ مِئَۃِ سَنَۃٍ۔)) … مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں حاملینِ عرش فرشتوں میں ایک فرشتے کییہ (جسامت) بیان کروں کہ اس کی کان کی لو سے کندھے تک کا فاصلہ سات سو سال مسافت کا ہے۔ (ابوداود: ۴۷۲۷)
یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مناظر ہیں۔ جس فرشتے کی کان کی لو اور اس کے مونڈھے کا درمیان کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت کا ہو، اس کا باقی وجود کتنا بڑا ہو گا۔ ربّ جلیل ہی ہے جو تعریف و توصیف اور حمد وثنا کا مستحق ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اُذِنَ لِيْ اَنْ اُحَدِّثَ عَنْ مَلَکٍ مِنْ مَلَائِکَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی مِنْ حَمَلَۃِ الْعَرْشِ، مَابَیْنَ شَحْمَۃِ اُذُنِہٖاِلٰی عَاتِقِہٖمَسِیْرَۃُ سَبْعِ مِئَۃِ سَنَۃٍ۔)) … مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں حاملینِ عرش فرشتوں میں ایک فرشتے کییہ (جسامت) بیان کروں کہ اس کی کان کی لو سے کندھے تک کا فاصلہ سات سو سال مسافت کا ہے۔ (ابوداود: ۴۷۲۷)
یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مناظر ہیں۔ جس فرشتے کی کان کی لو اور اس کے مونڈھے کا درمیان کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت کا ہو، اس کا باقی وجود کتنا بڑا ہو گا۔ ربّ جلیل ہی ہے جو تعریف و توصیف اور حمد وثنا کا مستحق ہے۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2314
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10212 in Urdu