الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَالْكَوْاكِبِ
سورج، چاند اور ستاروں کا بیان
حدیث نمبر: 10240
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَوْا إِلَى مَا قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ يَقُولُونَ الْكَوْكَبُ وَبِالْكَوْكَبِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات کی طرف نہیں دیکھتے، جو تمہارے ربّ نے کہی ہے؟ اس نے کہا: جب بھی میں اپنے بندوں پر کوئی نعمت کرتا ہوں تو ان میں ایک فریق تو میرے ساتھ کفر کرنے والا ہو جاتا ہے، وہ کہتا ہے: ستارے نے بارش برسائی، ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10240]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 72، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8811 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8797»
وضاحت: فوائد: … جو نعمت کو ستاروں کی طرف منسوب کرتاہے، کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی ہے تو وہ مشرک ہو جاتا ہے اور جو اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والا ہو گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 72
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10240 in Urdu