الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغَيْمِ وَالْمَطْرِ وَالْبَرَدِ وَ زَمَنِ الشَّتَاءِ
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
حدیث نمبر: 10253
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مُطِرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَرَجَ فَحَسَرَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ الْمَطَرُ قَالَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا قَالَ لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں بارش ہوئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے، (اپنے جسم کے بعض حصے سے) کپڑا ہٹایا،یہاں تک کہ اس حصے پر بارش کا پانی لگا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیونکہ یہ اپنے ربّ کی طرف سے نئی نئی آئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10253]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12392»
وضاحت: فوائد: … یعنی اللہ تعالیٰ ابھی ابھی اس بارش کو ایجاد کر کے نازل کر رہا ہے، جبکہ بارش رحمت ہے، اس لیے اس انداز میں تبرک حاصل کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 898
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10253 in Urdu