الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغَيْمِ وَالْمَطْرِ وَالْبَرَدِ وَ زَمَنِ الشَّتَاءِ
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
حدیث نمبر: 10256
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ السَّنَةَ لَيْسَ بِأَنْ لَا يَكُونَ فِيهَا مَطَرٌ وَلَكِنَّ السَّنَةَ أَنْ تُمْطِرَنَا السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتَ الْأَرْضُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک قحط سالییہ نہیں ہے کہ بارش نہ ہو، بلکہ قحط سالی تو یہ ہے کہ آسمان بارش برسائے، لیکن زمین کچھ نہ اگائے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10256]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2904، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8492»
وضاحت: فوائد: … اس کا سبب نافرمانیوں کی کثرت اور ان کی پروا نہ کرنا ہو گی۔
بارش کا نہ ہونا بھی قحط سالی ہے، جیسا کہ دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے، لیکنیہ قحط سالی کی خطرناک صورت ہے کہ بارش بھی ہو رہی ہو، لیکن زمین کچھ نہ اگا رہی ہو۔
بارش کا نہ ہونا بھی قحط سالی ہے، جیسا کہ دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے، لیکنیہ قحط سالی کی خطرناک صورت ہے کہ بارش بھی ہو رہی ہو، لیکن زمین کچھ نہ اگا رہی ہو۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2904
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10256 in Urdu