🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بابُ مَا جَاءَ فِي خَلْقِ الْمَلَائِكَةِ
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10258
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ أَطَّتِ السَّمَاءُ وَحَقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ لَوْ عَلِمْتُمْ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ قَالَ أَبُو ذَرٍّ وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي شَجَرَةٌ تُعْضَدُ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جو میں دیکھتا ہوں وہ تم نہیں دیکھ سکتے اور جو میں سنتا ہوں وہ تم نہیں سن سکتے۔ (سنو!) آسمان چرچراتا ہے اور اسے چرچرانا ہی زیب دیتا ہے، کیونکہ وہاں چار انگلیوں کے بقدر بھی جگہ خالی نہیں ہے، ہر جگہ فرشتے سجدہ ریز ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر تمھیں اس کا علم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسنا کم کر دو، رونا زیادہ کر دو، بچھونوں پر اپنی بیویوں سے لذتیں اٹھانا ترک کر دو اور (اللہ کی طرف) گڑگڑاتے ہوئے گھاٹیوں کی طرف نکل جاؤ۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ میں درخت ہوتا، جسے کاٹ دیا جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10258]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 4190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21848»
وضاحت: فوائد: … اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت، نافرمانوں پر انتقامی کاروائیوں اور موت کے وقت کے اور قبر و قیامت کے ہولناک مناظر اور سخت مناقشوں کا جو علم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تھا، کسی امتی کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہو سکتا۔ اگر ان حالات و واقعات کو مدنظر رکھا جائے تو مسلمان پر لرزہ طاری ہو جائے اور وہ اپنے حسنِ خاتمہ کے بارے میں سسکیاں بھرنا شروع کر دے۔ شریعت ِ اسلامیہ میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی جائے، کثرت سے اس کی عبادت کی جائے۔ اور گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10258 in Urdu