🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب ما جاء فى خلق الملائكة
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10262
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَتْ يَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَلَكٌ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ فَأَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبُكَ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالُوا جِبْرِيلُ ذَاكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا لَوْ قُلْتَ مِيكَائِيلَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَكَانَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ} [سورة البقرة: 97] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: ہر نبی کا ایک فرشتہ ہوتا ہے، جو اس کے پاس خیر لاتا ہے، آپ ہمیں بتائیں کہ آپ کے پاس آنے والا فرشتہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام ہے۔ انھوں نے کہا: جبریل،یہ تو لڑائی، قتال اور عذاب کے ساتھ نازل ہونے والا ہمارا دشمن فرشتہ ہے، اگر آپ نے میکائیل کا نام لیا ہوتا تو تب بات بنتی، وہ رحمت، انگوری اور بارش کے ساتھ نازل ہوتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ } … آپ کہہ دیجئے کہ جو جبریل کا دشمن ہے تو یقینا اس نے آپ کے دل پر پیغام باری تعالیٰ اتارا ہے، جو پیغام ان کے پاس کی کتاب کی تصدیق کرنے والا اور مومنوں کو ہدایت اور خوشخبری دینے والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷) [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10262]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 3117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2483»
وضاحت: فوائد: … امام طبری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ جب یہودیوں نے جبرائیل علیہ السلام کو اپنا دشمن اور میکائیل علیہ السلام کو اپنا دوست بتایا تھا تو اس وقت ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔
لیکنیہ نہیں ہو سکتا کہ میکائیل سے دوستی ہو اور جبریل سے دشمنی، اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات، فرشتوں اور رسولوں کی دوستییا دشمنی کو ایک قرار دیتے ہوئے اس سے اگلی آیت میں فرمایا: {مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلٰیِکَتِہٖ وَرُسُلِہٖوَجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰیلَفَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ۔} … جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائل کا دشمن ہے تو بے شک اللہ کافروں کا دشمن ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۸)

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 10262 in Urdu