الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب ما جاء فى خلق الجن وأمور تتعلق بهم
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
حدیث نمبر: 10273
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ (وَفِي رِوَايَةٍ فِي الْبَحْرِ) ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ مَا صَنَعْتَ شَيْئًا قَالَ وَيَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِهِ قَالَ فَيُدْنِيهِ مِنْهُ (أَوْ قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ) وَيَقُولُ نِعْمَ أَنْتَ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً فَيُدْنِيهِ مِنْهُ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ابلیس اپنا تخت پانییا سمندر پر رکھتا ہے اور پھر اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے، ان میں مرتبے کے اعتبار سے اس کا سب سے زیادہ قریبی وہ ہوتا ہے،جو سب سے بڑا فتنہ برپا کرتا ہے، ایک آ کر کہتا ہے: میں نے یہیہ کاروائی کی ہے، لیکن ابلیس کہتا ہے: تو نے تو کچھ نہیں کیا، ایک آکر کہتا ہے: میں نے اس کو اس وقت تک نہیں چھوڑا، جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں ڈال دی، پس ابلیس اس کو اپنے قریب کرتا ہے اور اس کو گلے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے: کیا خوب ہے تو (تو نے تو کمال کر دیا ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10273]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2813، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14430»
وضاحت: فوائد: … ابلیس کی فکر یہ ہے کہ زمین میں شرّ و معصیت عام ہو جائے، وہ اس مقصد کے لیے ہر وقت کوشاں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10273 in Urdu