🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي خَلْقِ الْجِنِّ وَأَمُورٍ تَتَعَلَّقُ بِهِمْ
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10278
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يُبْعَثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سورج غروب ہو جائے تو اپنے مویشیوں اور بچوں کو باہر نہ بھیجا کرو، یہاں تک کہ رات کاابتدائی اندھیرا ختم ہو جائے، کیونکہ غروب آفتاب کے بعد شیطانوں کو بھیجا جاتا ہے، یہاں تک کہ رات کا ابتدائی اندھیرا ختم ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10278]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2013، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14394»
وضاحت: فوائد: … اس میں بچوں کی روحانی حفاظت کی تلقین کی گئی ہے، جو والدین کی سب سے اہم ذمہ داری ہے، لیکن آج کل ہر باپ کا ہدف عصری تعلیم کا حصول ہے، والدین اور خاندانوں کے سربراہان بچوں کی روحانی تربیت سے غافل ہیں۔ نماز، تلاوت ِ قرآن، ذکر اذکار، سونے اور بیدار ہونے کی دعائیں، کھانے پینے کے آداب اور حسن اخلاق کے سلسلے میں ان کی کوئی نگرانی نہیں کی جاتی۔ ایسے والدین تو عنقا بن چکے ہیں جو کہیں کہ بیٹا! پانی پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھو، بیٹھ کر پیو، دائیں ہاتھ سے پیو، تین سانس لو اور برتن کے اندر سانس نہ لو، کیونکہیہ ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاکیزہ تعلیمات ہیں۔ بس ہر ایک باپ کییہی تمنا ہے کہ اس کا بچہ تہذیب ِ نو اور جدّت پرستی میں ڈھلا ہوا ہو، جدید علوم و معارف سے آراستہ ہو، اعلی عہدے پر فائز ہو، کم سنی میں ہی انگریزی زبان پر مکمل عبور رکھتا ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔
قارئین کرام! آپ کی تمناؤں میں کوئی قباحت نہیں، لیکن اگر یہی خواہشات بچوں کا مقصودِ زندگی بنا دی جائیں تو کسی پہلو میں خیر نہیں رہتی۔
نیزاس حدیث کا اہم تقاضا یہ ہے کہ غروب ِ آفتاب کے وقت بچوں کو گھر میں بحفاظت رکھا جائے، تاکہ وہ شیطانوں کے شرّ سے محفوظ رہ سکیں اور ان کی روح متأثر نہ ہو، لیکن آج کل دیکھایہ گیا ہے کہ اس وقت بچے گلیوں، سڑکوں اور میدانوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ اس دور کے بچوں میں خیر و بھلائی کے معدوم ہونے کییہی وجہ ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2013


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10278 in Urdu