الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِسْلَامِ طَائِفَةٍ مِنَ الْجِنِّ وَمُقَابَلَتِهِمْ لِلنَّبِيُّ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ وَاسْتِمَاعِهِمُ الْقُرْآنَ مِنْهُ
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن سننے کا بیان
حدیث نمبر: 10288
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ خَطَّ حَوْلَهُ يَعْنِي حَوْلَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَكَانَ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ مِثْلُ سَوَادِ النَّخْلِ وَقَالَ لِي لَا تَبْرَحْ مَكَانَكَ فَأَقْرَأَهُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمَّا رَأَى الزُّطَّ قَالَ كَأَنَّهُمْ هَؤُلَاءِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ لَا قَالَ أَمَعَكَ نَبِيذٌ قُلْتُ نَعَمْ فَتَوَضَّأَ بِهِ
۔ سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنوں والی رات اس کے ارد گرد خط لگایا، جن کھجور کے سائے کی طرح اس کے پاس آتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سے فرمایا: تم نے اپنی جگہ پر رہنا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زُط نسل دیکھی تو فرمایا: گویا کہ یہ وہی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس نبیذ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبیذ سے وضو کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10288]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه الدارقطني: 1/77، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4353»
وضاحت: فوائد: … سوڈان اور ہند کی ایک جنس کانام زُط ہے۔نبیذ سے وضو کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہیہ مائے مطلق نہیں ہے۔ یہ روایت ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10288 in Urdu