الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب مَا جَاءَ فِي خَلْقِ الْأَرْوَاحِ وَآدَمَ وَذُرِّيَّتِهِ
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
حدیث نمبر: 10294
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روحیں اکٹھاکیے گئے لشکر ہیں، جن جن کا وہاں تعارف ہوگیا، وہ مانوس ہوگئے اور جن کی آپس میں شناخت نہ ہو سکی، وہ مختلف ہو گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10294]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2638، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10836»
وضاحت: فوائد: … انسانی مزاجوں میں حیران کن فرق پایا جاتا ہے، ایک آدمی دوسرے پر جان و مال قربان کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے، جبکہ دوسرا اس سے بول کر بھی راضی نہیں ہوتا، کسی کو اپنے بیوی بچے اس قدر پیارے لگتے ہیں کہ وہ سارا وقت ان کے اندر گزارنا چاہتا ہوتا ہے، جبکہ ایسے لوگ بھی ہیں، جن کا سارا وقت گھر سے باہر دوستوں یاروں میں گزر جاتا ہے، غرضیکہ ہر آدمی کا میلان اور رجحان دوسرے سے مختلف ہے اور تقریباً ہر کوئی دوسرے کے مزاج پر نقد بھی کرتا ہے۔
دراصل عالَمِ اراوح میں اتفاق و اختلاف اور الفت و نفرت کی صورتیں اور شکلیں پیدا ہو چکی ہوتی ہیں، دنیوی زندگی تو صرف ان کا مظہر ثابت ہوتی ہے۔
دراصل عالَمِ اراوح میں اتفاق و اختلاف اور الفت و نفرت کی صورتیں اور شکلیں پیدا ہو چکی ہوتی ہیں، دنیوی زندگی تو صرف ان کا مظہر ثابت ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2638
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10294 in Urdu