الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ مَا جَاءَ فِي خَلْقِ الْجَنِينَ وَتَكْوِينِهِ فِي الرحم
جنین کی تخلیق اور رحم میں اس کی تکوین کا بیان
حدیث نمبر: 10306
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ النُّطْفَةَ تَكُونُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا عَلَى حَالِهَا لَا تَتَغَيَّرُ فَإِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعُونَ صَارَتْ عَلَقَةً ثُمَّ مُضْغَةً كَذَلِكَ ثُمَّ عِظَامًا كَذَلِكَ فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُسَوِّيَ خَلْقَهُ بَعَثَ إِلَيْهَا مَلَكًا فَيَقُولُ الْمَلَكُ الَّذِي يَلِيهِ أَيْ رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ أَقَصِيرٌ أَمْ طَوِيلٌ أَنَاقِصٌ أَمْ زَائِدٌ قُوتُهُ وَأَجَلُهُ أَصَحِيحٌ أَمْ سَقِيمٌ قَالَ فَيُكْتَبُ ذَلِكَ كُلُّهُ) ) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا وَقَدْ فَزِعَ مِنْ هَذَا كُلِّهِ قَالَ ( (اعْمَلُوا فَكُلٌّ سَيُوَجَّهُ لِمَا خُلِقَ لَهُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بشیک نطفہ چالیس ایام تک اپنی حالت پر رہتا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، جب چالیس دن گزر جاتے ہیں تو وہ جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا بن جاتا ہے، پھر چالیس دنوں کے بعد گوشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے، پھر چالیس دنوں کے بعد ہڈیاں بنتی ہیں، پس جب اللہ تعالیٰ اس کی تخلیق کو برابر کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے، اس کام کو سنبھالنے والا فرشتہ کہتا ہے: اے میرے ربّ! یہ مذکر ہے یا مؤنث؟ خوش بخت ہے یا بد بخت؟ کوتاہ قد ہے یا دراز قد؟ ناقص الخلقت ہے یا زائد الخلقت؟ نیز اس کی روزی اور موت؟ اور یہ تندرست ہے یا بیمار؟ پس یہ سب چیزیں لکھ لی جاتی ہیں۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اگر اس سارے معاملے سے فارغ ہوا جا چکا ہے تو پھر عمل کا کیا تک ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عمل کرو، پس جس شخص کو جس چیز کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس کو اس کی طرف متوجہ کر دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10306]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف و منقطع، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه عبد الله بن مسعود، وعليُّ بن زيد بن جدعان ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3553 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3553»
وضاحت: فوائد: … لیکن دوسری احادیث میں اس روایت سے ملتا جلتا مفہوم بیان کیا گیا ہے، ایک حدیث درج ذیل ہے:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جوکہ صادق و مصدوق ہیں، نے ہم کو بیان کیا اور فرمایا: ((اِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہُ فِیْ بَطْنِ أُمِّہِ فِیْ أَرْبَعِیْنَیَوْمًا ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یُرْسَلُ اِلَیْہِ الْمَلَکُ فَیَنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحَ وَیُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ، رِزْقُہُ وَأَجَلُہُ وَعَمَلُہُ وَشَقِیٌّ أَمْ سَعِیْدٌ، فَوَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرُہُ اِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی مَا یَکُوْنُ بَیْنَہُ وَ بَیْنَہَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ فَیَدْخُلُہَا، وَ اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ حَتّٰی مَا یَکُوْنُ بَیْنَہُ وَ بَیْنَہَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمُ
لَہُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیَدْخُلُہَا۔)) … بیشک تمہاری تخلیق اس طرح ہوتی ہے کہ ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک خون کا لوتھڑا رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا رکھا جاتا ہے، پھر اس کی طرف فرشتے کو بھیجاجاتا ہے اور وہ اس میں روح پھونکتا ہے اور چار کلمات کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے رزق، موت اور عمل اور اس کے بدبخت یا خوش بخت ہونے کا، پس اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! بیشک تم میں سے ایک آدمی جنتی لوگوں والے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے مابین صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر سبقت لے جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ جہنمی لوگوں کے اعمال پر ہوتا ہے، پس وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمی لوگوںکے اعمال کرتا رہتا ہے، حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ اہل جنت کے اعمال پر کر دیا جاتا ہے، سو وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۲۰۸، ۳۳۳۲، صحیح مسلم: ۲۶۴۳، واللفظ لاحمد)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جوکہ صادق و مصدوق ہیں، نے ہم کو بیان کیا اور فرمایا: ((اِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہُ فِیْ بَطْنِ أُمِّہِ فِیْ أَرْبَعِیْنَیَوْمًا ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یُرْسَلُ اِلَیْہِ الْمَلَکُ فَیَنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحَ وَیُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ، رِزْقُہُ وَأَجَلُہُ وَعَمَلُہُ وَشَقِیٌّ أَمْ سَعِیْدٌ، فَوَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرُہُ اِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی مَا یَکُوْنُ بَیْنَہُ وَ بَیْنَہَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ فَیَدْخُلُہَا، وَ اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ حَتّٰی مَا یَکُوْنُ بَیْنَہُ وَ بَیْنَہَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمُ
لَہُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیَدْخُلُہَا۔)) … بیشک تمہاری تخلیق اس طرح ہوتی ہے کہ ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک خون کا لوتھڑا رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا رکھا جاتا ہے، پھر اس کی طرف فرشتے کو بھیجاجاتا ہے اور وہ اس میں روح پھونکتا ہے اور چار کلمات کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے رزق، موت اور عمل اور اس کے بدبخت یا خوش بخت ہونے کا، پس اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! بیشک تم میں سے ایک آدمی جنتی لوگوں والے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے مابین صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر سبقت لے جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ جہنمی لوگوں کے اعمال پر ہوتا ہے، پس وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمی لوگوںکے اعمال کرتا رہتا ہے، حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ اہل جنت کے اعمال پر کر دیا جاتا ہے، سو وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۲۰۸، ۳۳۳۲، صحیح مسلم: ۲۶۴۳، واللفظ لاحمد)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف و منقطع
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10306 in Urdu