الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدَدِ الْأَنْبِيَاءِ وَالرُّسُلِ وَأَمُورٍ تتعلق بهم
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان¤(انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
حدیث نمبر: 10318
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام کو ایک دوسرے پر فضیلت مت دو۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10318]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6916، ومسلم: 2374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11285»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا: {تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ} … یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۵۳)
اس آیت کا مطلب ہوا کہ بعض انبیاء ورسل کی زیادہ فضیلت ہے۔
تو اس حدیث ِ مبارکہ میں جس فضیلت و برتری سے منع کیا گیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اس انداز میں انبیاء و رسل کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا ممنوع ہے، جس سے کسی کی تنقیص اور سوئے ادب لازم آئے۔
اس آیت کا مطلب ہوا کہ بعض انبیاء ورسل کی زیادہ فضیلت ہے۔
تو اس حدیث ِ مبارکہ میں جس فضیلت و برتری سے منع کیا گیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اس انداز میں انبیاء و رسل کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا ممنوع ہے، جس سے کسی کی تنقیص اور سوئے ادب لازم آئے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6916
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10318 in Urdu