الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ نَبِيِّ اللَّهِ مُوسَى عَلَيْهِ السلام وَحَجُهِ وَ صَوْمِهِ
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
حدیث نمبر: 10373
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ ( (مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَ) ) قَالُوا هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ قَالَ فَصَامَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ) ) فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم کس مناسبت سے اس دن کا روزہ رکھتے ہو؟ انھوں نے کہا: یہ بڑا اچھا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن بنو اسرائیل کو ان کے دشمنوں سے نجات دلائی تھی، اس مناسبت سے موسی علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری بہ نسبت موسی علیہ السلام کا زیادہ حقدار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
میں تمہاری بہ نسبت موسی علیہ السلام کا زیادہ حقدار ہوں۔ یعنی موسی علیہ السلام کی موافقت کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حکم دیا: {فَبِھُدَاھُمُ اقْتَدِہْ} … پس تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔ اس سے پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطلوب موسی علیہ السلام کی موافقت تھی، نہ کہ یہودیوں کی۔
اس سے یہ اشکال ختم ہو جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہودیوں کی مخالفت پسند کرتے تھے، نہ کہ موافقت، شروع شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی تالیفِ قلبی کے لیے ان کی موافقت پسند کرتے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھایہ اہل کتاب تو کفر پر مصرّ ہیں اور تالیف قلبی سے متأثر نہیں ہو رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی موافقت چھوڑ دی اور ان کی مخالفت کی طرف مائل ہو گئے، اسی لیے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نو محرم کا روزہ رکھنے کا عزم کیا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10373]
میں تمہاری بہ نسبت موسی علیہ السلام کا زیادہ حقدار ہوں۔ یعنی موسی علیہ السلام کی موافقت کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حکم دیا: {فَبِھُدَاھُمُ اقْتَدِہْ} … پس تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔ اس سے پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطلوب موسی علیہ السلام کی موافقت تھی، نہ کہ یہودیوں کی۔
اس سے یہ اشکال ختم ہو جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہودیوں کی مخالفت پسند کرتے تھے، نہ کہ موافقت، شروع شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی تالیفِ قلبی کے لیے ان کی موافقت پسند کرتے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھایہ اہل کتاب تو کفر پر مصرّ ہیں اور تالیف قلبی سے متأثر نہیں ہو رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی موافقت چھوڑ دی اور ان کی مخالفت کی طرف مائل ہو گئے، اسی لیے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نو محرم کا روزہ رکھنے کا عزم کیا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10373]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2004، ومسلم: 1130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2644»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2004
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10373 in Urdu