الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ ذِكْرِ نُبُوَّةِ يُوشَعَ بَنِ نُونِ وَ قِيَامِهِ بِأَعْبَاءِ بَنِي إِسْرَئِيلَ بَعْدَ وَفَاةِ مُوسَى وَ هٰرُونَ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلامُ وَ مُعْجِزَتِهِ
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی¤ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
حدیث نمبر: 10390
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّمْسَ لَمْ تُحْبَسْ عَلَى بَشَرٍ إِلَّا لِيُوشَعَ بْنِ نُونٍ لَيَالِيَ سَارَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج کو کسی بشر کے لیے نہیں روکا گیا، ما سوائے یوشع بن نون علیہ السلام کے، یہ ان دنوں کی بات ہے، جب وہ بیت المقدس کی طرف جا رہے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10390]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 1069، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8315 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8298»
وضاحت: فوائد: … سورج اللہ تعالیٰ کے نظام کے مطابق صدہا صدیوں سے اپنے مدار میں گردش کر رہا ہے، اس کی آمد و رفت میں ایک لمحہ کا فرق نہیں آیا، صرف یوشع بن نون کے لیے سورج کو روک لیا گیا تھا، جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا، یقینا اس سے جہاد کی برکت و اہمیت واضح ہوتی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یوشع علیہ السلام نے بیت المقدس کو فتح کیا، نہ کہ موسی علیہ السلام نے، سورج کو بیت المقدس کی فتح کے موقع پر روکا گیا تھا، نہ کہ اریحا کی فتح کے موقع پر۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یوشع علیہ السلام نے بیت المقدس کو فتح کیا، نہ کہ موسی علیہ السلام نے، سورج کو بیت المقدس کی فتح کے موقع پر روکا گیا تھا، نہ کہ اریحا کی فتح کے موقع پر۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10390 in Urdu