الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ عَدَدِ مَنْ جَاوَزَ النَّهْرَ مَعَ طَالُوْتَ
خضر علیہ السلام اور الیاس علیہ السلام کا ذکر
حدیث نمبر: 10394
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُسَمَّ خَضِرًا إِلَّا لِأَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَإِذَا هِيَ تَهْتَزُّ خَضْرَاءَ الْفَرْوَةُ الْحَشِيشُ الْأَبْيَضُ وَمَا يُشْبِهُهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَظُنُّ هَذَا تَفْسِيرًا مِنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خضر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب وہ خشک زمین، جس پر کوئی سبزہ نہ ہوتا، پر بیٹھتے تھے تو وہ سر سبز ہو کر ہلنے لگتی تھی۔ راوی کہتا ہے: فَرْوَۃ سے مراد سفید گھاس اور اس سے ملتی جلتی چیزیں ہیں، عبد اللہ راوی نے کہا: میرا خیال ہے کہ عبد الرزاق نے یہ تفسیر بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10394]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3402، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8211»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3402
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10394 in Urdu