الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ ذِكْرِ قِصَّةِ جُرَيْجٍ أَحَدٍ عُبَّادِ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَ فِيْهِ مَنْ تَكَلَّمَ فِي الْمَهْدِ أَيْضًا
بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار شخص جریج کے قصے کا ذکر اور اس میں میں گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بھی بیان ہے
حدیث نمبر: 10436
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ تَاجِرًا وَكَانَ يَنْقُصُ مَرَّةً وَيَزِيدُ أُخْرَى قَالَ مَا فِي هَذِهِ التِّجَارَةِ خَيْرٌ أَلْتَمِسُ تِجَارَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ هَذِهِ فَبَنَى صَوْمَعَةً وَتَرَهَّبَ فِيهَا وَكَانَ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کا ایک آدمی تاجر تھا، کبھی اس کا مال کم ہو جاتا اور کبھی زیادہ، بالآخر اس نے کہا: اس تجارت میں کوئی خیر نہیں ہے، میں اس سے بہتر کوئی اور تجارت تلاش کرتا ہوں، پس اس نے ایک گرجا گھر بنایا اور رہبانیت اختیارکر کے اس میں بیٹھ گیا، اس کو جریج کہا جاتا تھا، … …۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10436]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9601»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9601
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10436 in Urdu