الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب فى بدا الوحي وكيف كان يأتيه ورؤيته ﷺ لجبريل عليه السلام
وحی کی ابتدائ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
حدیث نمبر: 10498
عَنْ عَلِيٍّ أَوْ عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا فَيُذَكِّرُنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ حَتَّى نَعْرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَكَأَنَّهُ نَذِيرُ قَوْمٍ يُصَبِّحُهُمُ الْأَمْرُ غُدْوَةً وَكَانَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ لَمْ يَتَبَسَّمْ ضَاحِكًا حَتَّى يَرْتَفِعَ عَنْهُ
۔ سیدنا علییا سیدنازبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے مخاطب ہوتے اور (سابقہ امتوں پر) اللہ تعالیٰ کے انعامات اور واقعات کے ساتھ نصیحت کرتے، تو ہم اس چیز کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (خوف سے بدلے ہوئے) چہرے سے پہنچان لیتے تھے، ایسے لگتا تھا کہ آپ اپنی قوم کو ڈرا رہے ہیں اور بس اگلے روز کی صبح کو عذاب آ جائے گا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام سے نئی نئی ملاقات کرتے تھے تو اس وقت تک نہیں مسکراتے تھے، جب تک وہ چلے نہیں جاتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10498]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 677، والطبراني في الاوسط: 2655، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1437»
وضاحت: فوائد: … فرشتے کا ادب کرتے ہوئے اور وحی کی شدت محسوس کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت مسکراتے نہیں تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10498 in Urdu