الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ فِي أَمْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ نَيَّهُ الله بِاظْهَارِ الدَّعْوَةِ والصدع بها وَمَا لَا قَاهُ مِنْ إِبْدَاءِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ لَهُ وتعديهم المُسْتَضْعَفِينَ مِمَّنْ أَسْلَمُوا مَعَهُ
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
حدیث نمبر: 10511
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَعَمَّ وَخَصَّ وَفِي رِوَايَةٍ جَعَلَ يَدْعُو بُطُونَ قُرَيْشٍ بَطْنًا بَطْنًا فَقَالَ ( (يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا مَعْشَرَ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا مَعْشَرَ بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِلَّا أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کو بلایا، عام آواز بھی دی اور خاص ندا بھی، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کے ایک ایک خاندان کو خاص کر کے پکارا اور فرمایا: اے قریش کی جماعت! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو کعب بن لؤی کی جماعت! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو عبد مناف کی جماعت! اپنے نفسوں کو آگ سے بچا لو، اے بنو ہاشم کی جماعت! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو عبد المطلب! اپنے نفسوں کو آگ سے بچا لو، اے فاطمہ بنت ِ محمد! اپنے نفس کو آگ سے بچا لے، پس اللہ کی قسم! بیشک میں اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، ما سوائے اس کے کہ تمہاری قرابتداری ہے، اس کو میں تر رکھوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10511]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2753، 4771، ومسلم: 204، 206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8726 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8711»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے قرابتداروں کو اسلام کی دعوت دینا،یہ معاملہ تو واضح ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایک قبیلے کو متوجہ کر کے یہ دعوت پیش کی، لیکن اس نقطے پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جو رشتہ دار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہیں لا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلہ رحمی کرتے ہوئے ان کی رشتہ داری کا حق ادا کیا، لیکن آج ہم سب مسلمان ہونے کے باوجود صلہ رحمی کے بجائے قطع رحمی میں پڑے ہوئے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2753
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10511 in Urdu