الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْذِيبِهِم الْمُسْتَضْعَفِينَ وَضَرْبِهِمْ لِلنَّبِيِّ ﷺ وَسَبِّهِ
مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
حدیث نمبر: 10527
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يُصْرَفُ عَنْهُ شَتْمُ قُرَيْشٍ كَيْفَ يَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَيَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو تعجب نہیں ہوتا کہ قریش کے گالی گلوچ کو مجھ سے کیسے دفع کر دیا جاتا ہے، وہ مُذَمّم پر لعنت کرتے ہیں، وہ تو مُذَمَّم کو برا بھلا کہتے ہیں، میں تو محمد ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10527]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3533، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7327»
وضاحت: فوائد: … قریشی کفار چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت ناپسند کرتے تھے، اس لیے وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ نام ہی ذکر نہیں کرتے تھے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح لازم آتی تھی، لیکن جب اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے دوسرا نام لیتے تھے، تو وہ سرے سے آپ کا نام ہی نہیں ہوتا تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3533
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10527 in Urdu