🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. بَابُ فِي تَكْسِيرِهِ وَ الْأَصْنَامَ الَّتِي كَانَتْ لِقُرَيْشٍ عَلَى الْكَعْبَةِ مَعَ عَلَى وَ اِنْتِصَارًا لِلْحَقِّ وَإِزْهَاقًا لِلْبَاطِل
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10538
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ كَانَ عَلَى الْكَعْبَةِ أَصْنَامٌ فَذَهَبْتُ لِأَحْمِلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَسْتَطِعْ فَحَمَلَنِي فَجَعَلْتُ أَقْطَعُهَا وَلَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ السَّمَاءَ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کعبہ پر بت تھے، پہلے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھانا چاہا تو مجھ میں اتنی طاقت نہیں تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اٹھایا اور میں نے ان کو توڑ دیا، اگر میں چاہتا تو آسمان کو چھو لیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10538]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي مريم الثقفي، وضعفِ نعيم بن حكيم، وانظرالحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1302»
وضاحت: فوائد: … بتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر گرایا تھا، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: دَخَلَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَکَّۃَ وَحَوْلَ الْکَعْبَۃِ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا فَجَعَلَ یَطْعُنُہَا بِعُودٍ فِییَدِہِ وَجَعَلَ یَقُولُ: {وَقُلْ جَاء َ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا۔} … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، جبکہ بیت اللہ کے آس پاس تین سو ساٹھ بت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ میںپکڑی ہوئی لکڑی سے انھیں کچوکے دے رہے تھے اور یہی آیت پڑھتے تھے: {وَقُلْ جَاء َ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا۔} … اور کہہ دے حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے والا تھا۔ [سورۂ اسرائ: ۸۱] (صحیح بخاری: ۲۲۹۸)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابي مريم الثقفي


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10538 in Urdu