الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب ما ورد فى أمور متفرقة تتعلق بالإسراء والمعراج
اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
حدیث نمبر: 10584
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ وَوَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيلَةِ يَخْرُجُ مِنْ سَاقِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَانِ قَالَ أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے ساتویں آسمان میں سدرۃ المنتہی کو بلند کیا گیا، اس کا پھل ہجر کے مٹکوںکی طرح اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کی طرح تھے، اس کے تنے سے دو نہریں ظاہری اور دو نہریں مخفی نکل رہی تھیں، میں نے کہا: اے جبریل! یہ دو چیزیں کیا ہیں؟ اس نے کہا: دو باطنی نہریں جنت میں جا رہی ہیں اور یہ دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10584]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الحاكم: 1/ 81، وابوعوانة: 5/ 323، وانظر الحديث رقم: (10321)، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12702»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ سدرۃ المنتہی کی جڑوں اور تنے کا آغاز چھٹے آسمان سے ہوتا ہو اور اس کی شاخین ساتویں آسمان میں ہوں۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جس طرح انسان کی اصل جنت سے ہے، اسی طرح ممکن ہے کہ دریائے نیل اور دریائے فرات کی اصل جنت سے ہو۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ دریا معروف چشموں سے پھوٹ رہے ہیں۔اس تعارض کو یوں دور کیا جائے گا کہ حدیث کا تعلق غیبی امور سے ہے، جس پر ایمان لانااور اس کی اطلاع دینے والے کے سامنے سر تسلیمِ خم کرنا واجب ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَـلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} (سورۂ نسا: ۶۵) … سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ آپ ان میں کر دیں، اس سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جس طرح انسان کی اصل جنت سے ہے، اسی طرح ممکن ہے کہ دریائے نیل اور دریائے فرات کی اصل جنت سے ہو۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ دریا معروف چشموں سے پھوٹ رہے ہیں۔اس تعارض کو یوں دور کیا جائے گا کہ حدیث کا تعلق غیبی امور سے ہے، جس پر ایمان لانااور اس کی اطلاع دینے والے کے سامنے سر تسلیمِ خم کرنا واجب ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَـلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} (سورۂ نسا: ۶۵) … سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ آپ ان میں کر دیں، اس سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10584 in Urdu