الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ رُؤْيَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا وَهَلْ رَأَى رَبَّهُ عَزَّوَجَلَّ لَيْلَةَ الْمِعْرَاجِ أَمْ لَا؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 10586
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ وَقَدْ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي أَمْلَى عَلَيَّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ عبد اللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے یہ حدیث سنی تھی، انھوں نے کسی اور مقام پر یہ حدیث مجھے لکھوائی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10586]
تخریج الحدیث: «ضعيف، حماد بن سلمة، الاحتياط ان لا يحتج به فيمايخالف الثقات، أخرجه البيھقي في الاسماء والصفات: ص 444، وعبد الله بن احمد في السنة: 563، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2580»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں:
عکرمہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: رَأٰی مُحَمَّدٌ رَبَّہُ، قُلْتُ: أَلَیْسَ اللّٰہُ یَقُولُ: { لَا تُدْرِکُہُ الْأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ}؟ قَالَ: وَیْحَکَ ذَاکَ إِذَا تَجَلّٰی بِنُورِہِ الَّذِی ہُوَ نُورُہُ، وَقَالَ أُرِیَہُ مَرَّتَیْنِ۔ … محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے، میں عکرمہ نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے اس طرح نہیں فرمایا: آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں، جبکہ وہ آنکھوں کا ادرک کرتا ہے۔ انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، اس آیت کا تعلق اس صورت سے ہے جب وہ اپنے نور سمیت تجلی فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا دو بار دیدار ہوا ہے۔ (ترمذی: ۳۲۹، شیخ البانی نے اس موقوف روایت کو ضعیف قرار دیا ہے)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأٰی} کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا: رَأیٰ مُحَمَّدٌ رَبَّہٗعَزَّوَجَلَّبِقَلْبِہٖمَرَّتَیْنِ۔ … محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دل سے ربّ تعالیٰ کو دو بار دیکھا ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۷۶، واللفظ لاحمد۱۹۵۶)
لیکن حدیث نمبر (۱۰۵۹۰) سے معلوم ہوا کہ سورۂ نجم کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت کا ذکر نہیں ہے، بلکہ جبریل علیہ السلام کو دیکھنے کا ذکر ہے۔
البتہ حدیث نمبر (۸۹۷۸، ۸۹۷۹) سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا ہے۔
عکرمہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: رَأٰی مُحَمَّدٌ رَبَّہُ، قُلْتُ: أَلَیْسَ اللّٰہُ یَقُولُ: { لَا تُدْرِکُہُ الْأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ}؟ قَالَ: وَیْحَکَ ذَاکَ إِذَا تَجَلّٰی بِنُورِہِ الَّذِی ہُوَ نُورُہُ، وَقَالَ أُرِیَہُ مَرَّتَیْنِ۔ … محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے، میں عکرمہ نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے اس طرح نہیں فرمایا: آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں، جبکہ وہ آنکھوں کا ادرک کرتا ہے۔ انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، اس آیت کا تعلق اس صورت سے ہے جب وہ اپنے نور سمیت تجلی فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا دو بار دیدار ہوا ہے۔ (ترمذی: ۳۲۹، شیخ البانی نے اس موقوف روایت کو ضعیف قرار دیا ہے)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأٰی} کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا: رَأیٰ مُحَمَّدٌ رَبَّہٗعَزَّوَجَلَّبِقَلْبِہٖمَرَّتَیْنِ۔ … محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دل سے ربّ تعالیٰ کو دو بار دیکھا ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۷۶، واللفظ لاحمد۱۹۵۶)
لیکن حدیث نمبر (۱۰۵۹۰) سے معلوم ہوا کہ سورۂ نجم کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت کا ذکر نہیں ہے، بلکہ جبریل علیہ السلام کو دیکھنے کا ذکر ہے۔
البتہ حدیث نمبر (۸۹۷۸، ۸۹۷۹) سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10586 in Urdu