🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. بَابُ رُؤْيَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا وَهَلْ رَأَى رَبَّهُ عَزَّوَجَلَّ لَيْلَةَ الْمِعْرَاجِ أَمْ لَا؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10592
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ حِجَابُهُ النَّارُ لَوْ كَشَفَهَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَيْدَةَ {نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [النمل: 8]
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک نہ اللہ تعالیٰ سوتا ہے اور نہ سونا اس کے شایانِ شان ہے، وہ کسی کے حق میں ترازو کو جھکاتا ہے اور کسی کے حق میں اٹھا دیتا ہے، اس کا پردہ آگ کا ہے، اگر وہ اس پردے کو چاک کر دے تو اس کے چہرے کے انوار و تجلیات ہر اس چیز کو جلا دیں گے، جہاں تک اس کی نگاہ کا ادراک ہے۔ پھر ابو عبیدہ راوی نے اس آیت کی تلاوت کی: جب موسی وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے، وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ (سورۂ نمل: ۸) [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10592]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19816»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا میں مخلوق کے لیے اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ممکن نہیں ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی احادیث بھی عدم رؤیت پر دلالت کرتی ہیں۔
ابو عبیدہ راوی نے جو آیت تلاوت کی، وہ پورا مضمون یوں ہے:
{اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِاَہْلِہٖٓاِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا سَاٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَــبَرٍ اَوْ اٰتِیْکُمْ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ۔ فَلَمَّا جَاء َہَا نُوْدِیَ اَنْ بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ یٰمُوْسٰٓی اِنَّہٓ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔} … جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنے گھر والوں سے کہا بلاشبہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے، میں عنقریب تمھارے پاس اس سے کوئی خبر لاؤں گا، یا تمھارے پاس اس سے سلگایا ہوا انگارا لے کر آؤں گا، تاکہ تم تاپ لو۔ تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے آواز دی گئی کہ برکت دی گئی ہے اسے جو آگ میں ہے اور جو اس کے
ارد گرد ہے اور اللہ پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اے موسیٰ! بے شک حقیقتیہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں، جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔(سورۂ نمل: ۷، ۸، ۹)
یہ اس وقت کا واقعہ ہے، جب موسی علیہ السلام مدین سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس آ رہے تھے، رات کو اندھیرے میں راستے کا علم نہیں تھا اور سردی سے بچاؤ کے لیے آگ کی بھی ضرورت تھی، جس چیز کو موسی علیہ السلام نے آگ محسوس کیا،یہ کوہ طور کا مقام تھا، جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ سر سبز درخت سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے، یہ حقیقت میں آگ نہیں تھی، اللہ تعالیٰ کا نور تھا، جس کی تجلی آگ کی طرح محسوس ہوتی تھی۔
جو آگ میں ہے، اس کو برکت دی گئی اس سے مراد اللہ تعالیٰ تھا، آگ سے مراد اس کانور تھا اور اس کے ارد گرد سے مراد موسی علیہ السلام خود اور فرشتے تھے۔
ابو عبیدہ راوی نے یہ آیت پڑھ کر حدیث ِ مبارکہ کے مضمون کو واضح کیا، کیونکہ آیت مقدسہ کے مطابق بھی اللہ تعالیٰ اور موسی علیہ السلام کے درمیان نور حائل تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 179


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10592 in Urdu