الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَرْضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَفْسَهُ الْكَرِيمَة عَلَى أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِي مَوَاسِمِ الْحَجُ بمِنِّي فِي مَنَازِلِهِمْ عَلَى أَنْ يَأْوُوهُ وَيَنْصُرُوهُ ويَسْتَعُوهُ مِمَّنْ كَذَبَهُ وَخَالَفَهُ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
حدیث نمبر: 10596
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ عِبَادٍ الدَّيْلِيَّ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ بِمِنًى فِي مَنَازِلِهِمْ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا قَالَ وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ يَقُولُ هَذَا يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَدَعُوا دِينَ آبَائِكُمْ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ فَقِيلَ هَذَا أَبُو لَهَبٍ
۔ سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے موسم میں مِنٰی میں لوگوں کی رہائش گاہوں میں ان کے پاس جاتے اور فرماتے: لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی ہوتا، وہ کہتا: یہ شخص تم کو حکم دے رہا ہے کہ تم اپنے آباء کا دین چھوڑ دو، میں نے پوچھا کہ پیچھے والا آدمی کون ہے؟ جواب دیا گیا کہ یہ ابو لہب ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10596]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 4587، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16024 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16120»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فکر یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام عام کیا جائے اور لوگوں کی راہِ ہدایت کی طرف رہنمائی کی، اس مقصد کی تکمیل کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منصوبہ بندی کرتے رہتے تھے، ایک منصوبے کا بیان اس حدیث میں ہے کہ حج کے موقع پر دور دراز کے علاقوں سے لوگ آتے تھے، ان کو آپ تبلیغ کرتے تھے، ممکن تھا کہ وہ خود اسلام قبول کر لیتےیا ان کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام عام ہو جاتا۔
الحكم على الحديث:
صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10596 in Urdu