🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. بَابُ قِصَّتِهِمَا مَعَ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ وَمَا جَرَى لَهُمَا فِي الطَّرِيقِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10618
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَبُو بَكْرٍ شَيْخٌ يُعْرَفُ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَابٌّ لَا يُعْرَفُ قَالَ فَيَلْقَى الرَّجُلُ أَبَا بَكْرٍ فَيَقُولُ يَا أَبَا بَكْرٍ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ فَيَقُولُ هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي إِلَى السَّبِيلِ فَيَحْسَبُ الْحَاسِبُ أَنَّهُ أَنَّمَا يَهْدِيهِ إِلَى الطَّرِيقِ وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيلَ الْخَيْرِ فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَهُمْ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا قَالَ فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ فَصَرَعَتْهُ فَرَسُهُ ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ قَالَ قِفْ مَكَانَكَ لَا تَتْرُكَنَّ أَحَدًا يَلْحَقُ بِنَا قَالَ فَكَانَ أَوَّلُ النَّهَارِ جَاهِدًا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ وَكَانَ آخِرَ النَّهَارِ مَسْلَحَةً لَهُ قَالَ فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ جَانِبَ الْحَرَّةِ ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَاءُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِمَا وَقَالُوا ارْكَبَا آمِنَيْنِ مُطْمَئِنَّيْنِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار تھے، سیدنا ابو بکر بڑی عمر کے تھے، انکو پہنچان لیا جاتا تھا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوجوان لگتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں پہچانا جاتا تھا، اس لیے لوگ سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ کو ملتے اور کہتے: یہ آپ کے آگے بیٹھا ہوا آدمی کون ہے؟ وہ کہتے: یہ راستے کی طرف میری رہنمائی کرنے والا آدمی ہے، سائل یہ خیال کرتا کہ وہ ان کا راستہ بتلانے والا ہے، جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مراد خیر و بھلائی والا راستہ تھی، جب ابو بکر رضی اللہ عنہ پیچھے کو متوجہ ہوئے تو کیا دیکھا کہ ایک گھوڑ سوار ان کو آ ملا ہے، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ ایک گھوڑ سوار ہم تک پہنچ گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اللہ! اس کو گرا دے۔ پس اس کے گھوڑے نے اس کو گرا دیا، پھر وہ گھوڑا کھڑا ہو کر ہنہنانے لگا، اس گھوڑ سوار نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ جو چاہتے ہیں، مجھے حکم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی کھڑا ہو جا اور کسی کو نہ چھوڑ کہ وہ ہمیں پا سکے۔ یہ شخص دن کے شروع میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لڑنے والا تھا، لیکن دن کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرنے والا بن گیا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرّہ کی ایک جانب اترے اور انصاریوں کو بلا بھیجا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ان دونوں ہستیوں کو سلام کیا اور پھر کہا: امن اور اطمینانکے ساتھ سوار ہو جاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10618]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3911، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13237»
وضاحت: فوائد: … سراقہ بن جعشم کا سارا قصہ متن سے ہی واضح ہورہا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3911


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10618 in Urdu