الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب ما جاء فى بيعة نساء أهل المدينة
اہلِ مدینہ کی خواتین کی بیعت کا بیان
حدیث نمبر: 10666
عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نِسَاءٍ نُبَايِعُهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا مَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا الْآيَةَ [الممتحنة: 12] قَالَ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تُصَافِحُنَا قَالَ إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ إِنَّمَا قَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ كَقَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ
سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں عورتوں کے ساتھ مل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی، ہم نے آپ سے بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے قرآن پاک میں بیان کئے گئے اصولوں پر بیعت لی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کریں گی، (آیت آخر تک)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ان شقوں پر تم نے اتنا عمل کرنا ہے، جتنی تم میں طاقت اور قوت ہو گی۔ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تو ہمارے ساتھ ہمارے نفسوں سے بھی زیادہ رحم کرنے والے ہیں، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے ساتھ مصافحہ کیوں نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اجنبی عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، میرا سو خواتین سے عہد لینا، ایسے ہی ہے جیسے ایک عورت سے عہد لیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10666]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 7/ 149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27549»
وضاحت: فوائد: … چونکہ غیر محرم خاتون کو ہاتھ لگانا حرام ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین سے بیعت لیتے وقت خواتین کے ہاتھ پرہاتھ نہیں رکھتے تھے، بلکہ زبانی کلامی بیعت لیتے تھے۔
جب صحابیات آیت میںمذکورہ امور پر علی الاطلاق پابند رہنے کا دعوی کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو لقمہ دیتے کہ طاقت اور استطاعت کے مطابق اقرار کرنا چاہیے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔
جب صحابیات آیت میںمذکورہ امور پر علی الاطلاق پابند رہنے کا دعوی کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو لقمہ دیتے کہ طاقت اور استطاعت کے مطابق اقرار کرنا چاہیے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10666 in Urdu