🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَصَارِعِ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ قَبْلَ مَوْتِهِمْ وَرَمْي جُنَيْهِم فِي بِشْرٍ ثُمَّ نِدَائِهِ إِيَّاهُمْ بِالتَّقْرِيعِ وَالتَّوْبِيخِ
اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سردارانِ قریش کی موت سے پہلے ہی ان کے گرنے کی¤جگہوں کے متعلق بتلا دیا تھا، نیز ان کی لاشوں کو کنوئیں میں پھینکنے اور پھر ان کو زجروتوبیخ¤کرتے ہوئے ان سے ہم کلام ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10708
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَالَ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيُرِينَا مَصَارِعَهُمْ بِالْأَمْسِ يَقُولُ هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى وَهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى قَالَ فَجَعَلُوا يُصْرَعُونَ عَلَيْهَا قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَأُوا تِلْكَ كَانُوا يُصْرَعُونَ عَلَيْهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَطُرِحُوا فِي بِئْرٍ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ يَا فُلَانُ يَا فُلَانُ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمُ اللَّهُ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُكَلِّمُ قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا قَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اہلِ بدر کے متعلق مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ بدر سے ایک دن پہلے ہمیں سردارانِ قریش کے گرنے اور پچھڑنے کے مقامات دکھا رہے تھے، اور فرماتے تھے: کل ان شاء اللہ فلاں کافر یہاں قتل ہو کر گرے گا، اور فلاں آدمی قتل ہو کر یہاں گرے گا، ان شاء اللہ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ واقعی وہ لوگ انہی جگہوں پر گرے۔ میں (عمر) رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! وہ ان مقامات سے بالکل اِدھر اُدھر نہیں گرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی لاشوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں گھسیٹ کر کنوئیں میں پھینک دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کفار کی لاشوں کی طرف گئے اور فرمایا: اے فلاں! اے فلاں! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچ پا لیا ہے، میرے ساتھ تو اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا تھا، میں نے تو اسے پورا پالیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے لوگوں سے ہم کلام ہیں جو مردہ ہو چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ان سے جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم ان کی بہ نسبت زیادہ نہیں سن رہے، لیکن وہ ان باتوں کا جواب نہیں دے سکتے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10708]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2873، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 182 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 182»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحی کی روشنی میں کفر کے سرداروں کے قتل کے بارے میں جیسے پیشین گوئی کی تھی، ایسے ہی ہوا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2873


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10708 in Urdu