الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي مِحْنَةِ عَائِشَةَ رضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَ بِحَدِيثِ الْإِنكِ فِي هَذِهِ الْغَزْوَةِ
غزوۂ بنو مصطلق میں واقعۂ افک کی وجہ سے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ابتلاء وآزمائش کا بیان
حدیث نمبر: 10760
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُهَاجِرُونَ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ قَالَ أَنَسٌ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ خَدَمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ قَالَ فَأَجَابُوهُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا وَلَا نَفِرُّ وَلَا نَفِرُّ وَلَا نَفِرُّ
۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نکلے تو مہاجرین سخت سرد صبح کو خندق کھود رہے تھے، ان کے خادم نہیں تھے، (بلکہ وہ اپنا کام خود کیا کرتے تھے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، اے اللہ! تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے۔ صحابہ کرام نے جواباً کہا: ہم وہ لوگ ہیں، جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی ہے کہ ہم جب تک زندہ رہیں گے جہاد کرتے رہیں گے، اور ہم میدان سے نہیں بھاگیں گے، اور ہم نہیں بھاگیں گے اور ہم نہیں بھاگیں گے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10760]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13158»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13158
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10760 in Urdu