الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ فِيمَا أَبْدَاهُ المُجَاهِدُونَ مِنَ الشَّجَاعَةِ وَالاسْتِبْسَالِ فِي الْقِتَالِ
غزوۂ احزاب میں مجاہدین کی شجاعت اور اظہارِ قوت کا بیان بلکہ موت کے لیے تیار ہو کر ان کا لڑنا
حدیث نمبر: 10765
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ되는آلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ الْيَوْمَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا
سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احزاب کے موقع پر فرمایا: آج کے بعد ہم ان پر چڑھائی کریں گے، وہ اب ہم پر حملہ آور نہیں ہوں گے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10765]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27748»
وضاحت: فوائد: … ایسے ہی ہوا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، غزوۂ خندق کے بعد نہ تو مشرکینِ مکہ، مدینہ منورہ کا رخ کر سکے اور نہ کسی میدان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لشکر کا سامنا کر سکے۔ ۵ سن ہجری میں غزوۂ خندق پیش آیا تھا، ۶ سن ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے، لیکن عمرہ کی ادائیگی نہ ہو سکی اور حدیبیہ کے مقام پر مشرکین مکہ سے صلح کا واقعہ پیش آیا، جو مسلمانوں کے حق میں فتح مبین کا پیغام تھا، پھر مشرک یہ معاہدہ برقرار نہ رکھ سکے اور ۸ھمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ فتح کر کے مشرکین مکہ کا سلسلہ ہی ختم کر دیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4109
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10765 in Urdu