الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي زِوَاجِهِ ﷺ بِزَينَبَ بِنْتِ جَحْشِ رضي الله عنها وَنُزُولِ آيَةِ الْحِجَابِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّ المؤمنین سیّدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کرنے¤اور پردے والی آیت کے نازل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 10781
عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ خَرَجَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ إِذَا تَزَوَّجَ فَيَأْتِي حُجَرَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَدْعُو لَهُنَّ وَيُسَلِّمْنَ عَلَيْهِ وَيَدْعُونَ لَهُ ثُمَّ رَجَعَ وَأَنَا مَعَهُ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَابِ إِذَا رَجُلَانِ قَدْ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَلَمَّا أَبْصَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ وَثَبَا فَزِعَيْنِ فَخَرَجَا فَلَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ مَنْ أَخْبَرَهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُمّ المؤمنین سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا سے تزویج کے موقع پر ولیمہ کیا اورمسلمانوں کو سیر کر کے روٹی گوشت کھلایا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے معمول کے مطابق باہر نکلے، جیسے آپ قبل ازیں شادی کر کے باہر جایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امہات المؤمنین کے حجروں میں جا کر انہیں سلام کہتے، ان کے حق میں دعا کرتے اور جواباً وہ بھی آپ کو سلام کہتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں دعا کرتیں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے کے قریب پہنچے تو گھر کے اندر دو آدمی ابھی تک محوِ گفتگو تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو واپس لوٹ آئے، ان دونوں نے جب دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے گئے ہیں۔ تو وہ جلدی سے گھبرا کر اُٹھے اور چلے گئے، مجھے یاد نہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایایا کسی دوسرے نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی (کہ وہ آدمی بھی چلے گئے ہیں)، تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10781]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13103»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10781 in Urdu