🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ الرَّضْوَانِ
بیعتِ رضوان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10802
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ كَانَ أَبِي مِمَّنْ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ فَقَالَ انْطَلَقْنَا فِي قَابِلٍ حَاجِّينَ فَعُمِّيَ عَلَيْنَا مَكَانُهَا فَإِنْ كَانَتْ بَيَّنَتْ لَكُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ
سعید بن مسیب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، ان کے باپ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت ِ رضوان کی تھی۔ انہوں نے کہا: جب ہم اگلے سال حج کے ارادے سے گئے تو اس درخت کی جگہ پہنچاننا ہمارے لیے مشکل ہو گیا۔(یعنییہ معلوم کرنا مشکل ہو گیا کہ ہم نے کس جگہ اور کس درخت کے نیچے بیعت کی تھی؟) اگر وہ جگہ تمہارے لیے واضح ہو گئی تو تم ہی پھر اس کے بارے میں بہتر جانتے ہو گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی کا بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں تو اگلے سال بھی اس درخت اور اس کی جگہ کا یقینی علم نہ ہو سکا۔ اگر کسی بعد والے شخص کو اس کا علم ہوا ہے تو پھر اس کا علم تو ہم سے زیادہ ہوا نا۔ مطلب یہ ہے کہ اس کا یقینی علم کسی کو نہیں۔ (عبداللہ رفیق) [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10802]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4164، ومسلم: 1859، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24075»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں ہونے والے بڑے بڑے واقعات کے زمان و مکاں کو یاد نہیں رکھا گیا اور نہ یہ ان ہستیوں کا مقصود تھا۔ غزوۂ بدر، غزوۂ احد، غزوۂ خندق، صلح حدیبیہ، بیعت ِ رضوان، فتح مکہ، عمرے اور حجۃ الواداع وغیرہ، نہ تو سال کے بعد ان واقعات کی تاریخوں کو دوہرایا جاتا اور نہ ان مقامات کی زیارت کی جاتی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4164


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10802 in Urdu