الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ إِجْلَاءِ مَنْ بَقِيَ مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَإِبْقَائِهِمْ بخيبر بعد فتحها مُوَفَّنَا لِلْمَصْلَحَةِ
مدینہ منورہ میں باقی بچے ہوئے یہودیوں کی جلاوطنی اور فتح خیبر کے بعد بطور مصلحت کچھ عرصہ تک ان کو وہاں قیام کی اجازت دینے کا بیان
حدیث نمبر: 10821
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ ذَاكَ أُرِيدُ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ فَقَالَ اعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ہم مسجد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: چلو،یہودیوں کی طرف چلتے ہیں۔ پس ہم آپ کے ساتھ چلے اور ان کے بیت المدراس میں پہنچ گئے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں کھڑے ہوئے اور ان یہودیوں سے فرمایا: اے یہودیو! اسلام قبول کر لو، سلامتی پا جاؤ گے۔ انھوں نے کہا: اے ابو القاسم! آپ نے اپنی بات ہم تک پہنچا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھییہی چاہتا ہوں کہ تم اس بات کا اعتراف کرو کہ میں نے واقعی اپنی بات تم لوگوں تک پہنچا دی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا: یاد رکھو کہیہ زمین اللہ کی اور اس کے رسول کی ملکیت ہے اور میں تمہیں اس سر زمین سے جلا وطن کرنا چاہتا ہوں، پس تم میں سے جو کوئی اپنا مال فروخت کر سکتا ہے، فروخت کر لے، ورنہ یاد رکھو کہ یہ سر زمین اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ملکیت ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10821]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3167، 6944، ومسلم: 1765، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9826 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9825»
وضاحت: فوائد: … بنو نضیر کی جلا وطنی اور بنو قریظہ کے قتل کے بعد جو یہودی مدینہ سے بچ گئے تھے، ان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ خطاب کیا تھا، جیسے بنو قینقاع کے یہودی۔ فتح خیبر کے زمانے میں یہ اعلان کیا گیا۔
اےیہودیو! اسلام قبول کر لو، سلامتی پا جاؤ گے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جامع کلمات میں سے ہے، لیکن جب ملعون اور موٹی عقل والے یہودیوں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود اسلام کی دعوت دینا ہے اور انھوں نے اس جملے کو ناپسند کیا، اس لیے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ آپ نے اپنی بات ہم تک پہنچا دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری وضاحت کر دی۔
اےیہودیو! اسلام قبول کر لو، سلامتی پا جاؤ گے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جامع کلمات میں سے ہے، لیکن جب ملعون اور موٹی عقل والے یہودیوں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود اسلام کی دعوت دینا ہے اور انھوں نے اس جملے کو ناپسند کیا، اس لیے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ آپ نے اپنی بات ہم تک پہنچا دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری وضاحت کر دی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3167
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10821 in Urdu