الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْسِيمِ أَمْوَالِ خَيْرَ وَأَرْضِهَا بَيْنَهُم وَبَيْنَ الْمُسْلِمِينَ
خیبر کے اموال اور زمینوں کییہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کا بیان
حدیث نمبر: 10825
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ قَالَ بَعَثَنِي أَهْلُ الْمَسْجِدِ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَسْأَلُهُ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَعَامِ خَيْبَرَ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ وَقُلْتُ هَلْ خُمُسُهُ قَالَ لَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَكَانَ أَحَدُنَا إِذَا أَرَادَ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْهُ حَاجَتَهُ
محمد بن ابی مجالد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مسجد میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا کہ ان سے پوچھ کر آؤں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے پھلوں کے متعلق کیا فیصلہ فرمایا تھا، میں نے ان کی خدمت میں جا کر یہ بات ان سے دریافت کی اور میں نے یہ بھی پوچھا کہ آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا خمس(پانچواں حصہ) الگ کیا تھا، انہوں نے کہا: جی نہیں، وہ تو اس سے بہت کم تھا، ہم میں سے کوئی بھی آدمی جب چاہتا حسبِ ضرورت اس میں سے لے سکتا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10825]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابوداود: 2704، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19335»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10825 in Urdu