الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَزَوَاجِهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ بِمَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَرِثِ رضي الله عنها
عمرۂ قضاء اور اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادی کا بیان
حدیث نمبر: 10837
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ قَالَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ يَقْدُمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمُ الْحُمَّى قَالَ فَأَطْلَعَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَرْمُلُوا وَقَعَدَ الْمُشْرِكُونَ نَاحِيَةَ الْحَجَرِ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِمْ فَرَمَلُوا وَمَشَوْا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ قَالَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تَزْعُمُونَ أَنَّ الْحُمَّى وَهَنَتْهُمْ هَؤُلَاءِ أَقْوَى مِنْ كَذَا وَكَذَا ذَكَرُوا قَوْلَهُمْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا إِبْقَاءٌ عَلَيْهِمْ وَقَدْ سَمِعْتُ حَمَّادًا يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ لَا شَكَّ فِيهِ عَنْهُ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام عمرۂ قضا کے موقع پر مکہ مکرمہ تشریف لائے تو مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ یثرب کے بخار نے ان کو کمزور کر رکھا تھا، اسی وجہ سے مشرکوںنے کہا: ایسے لوگ تمہارے پاس آرہے ہیں جنہیںیثرب کے بخار نے کمزور کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی اطلاع دے دی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو طواف کے دوران رمل کرنے کا حکم دیا، مشرکین حطیم کی جانب بیٹھے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے۔ مسلمانوں نے رمل کیا، البتہ رکن یمانی اور حجراسود کے درمیان عام رفتار سے چلتے رہے، یہ صورتحال دیکھ کر مشرکین نے کہا: یہی وہ لوگ ہیں جن کی بابت تم کہہ رہے تھے کہ ان کو بخار نے کمزور کر رکھا ہے، یہ تو انتہائی طاقت ور ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ابتدائی تین چکروں میں رمل کیا اور بعد میں نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں پر ترس کھاتے ہوئے تمام چکروں میں دوڑنے کا حکم نہیں فرمایا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10837]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1602، 4256، ومسلم: 1266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2639»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں مذکورہ فقہی احکام و مسائل، حج و عمرہ کے ابواب میں گزر چکے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1602
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10837 in Urdu